معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 175291

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں میں 3120000 روپے کی رقم ہے وارثین میں چار مرد اور چار بیٹیاں ہیں دو شادی شدہ ہیں دو غیر شادی شدہ ہیں مہربانی فرماکر رہنمائی فرمائیں کہ بچیوں کا ، کتنا کتنا حصہ نکلتا ہے۔۔خادم محمد عارف خورجہ

Published on: Dec 25, 2019

جواب # 175291

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:307-248/N=4/1441



اگر کسی مرحوم یا مرحومہ نے اپنے وارثین میں صرف ۴/ بیٹے اور ۴/ بیٹیاں چھوڑی ہیں، ان کے علاوہ بیوی، یا شوہر، ماں، باپ، دادا، دادی اور نانی میں سے کسی کو نہیں چھوڑا ہے، ان کا انتقال پہلے ہی ہوگیا تھا تو مرحوم یا مرحومہ کا سارا ترکہ بعد ادائے حقوق متقدمہ علی الارث۱۲/ حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں سے ہر بیٹے کو ۲، ۲/ حصے اور ہر بیٹی کو ایک، ایک حصہ ملے گا۔ اور مذکورہ بالا حصص کے تناسب سے ۳۱/ لاکھ، ۲۰/ ہزار کی رقم اس طور پر تقسیم ہوگی کہ ہر بیٹے کو ۵/ لاکھ، ۲۰/ ہزار روپے اور ہر بیٹی کو ۲/ لاکھ، ۶۰/ ہزار روپے ملیں گے۔



قال اللہ تعالی :﴿ یوصیکم اللہ في أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین﴾(سورة النساء، رقم الآیة: ۱۱)، ویصیر عصبة بغیرہ البناتُ بالابن الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الفرائض، ۱۰:۵۲۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات