معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 172126

اگر کوئی اپنی بہن کو وراثت میں جان بوجھ کر حصہ نہ دے ان کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ شرعی حکم کا انکار نہیں ہے ؟ کیا ایسا کرنے والے مسلمان ہیں؟کیا ان کے یہاں کھانا پینا جائز ہے ؟

Published on: Jul 25, 2019

جواب # 172126

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1078-962/M=11/1440



بہن کو وراثت میں حصہ نہ دینے سے مراد اگر یہ ہے کہ باپ مرحوم کی متروکہ ملکیت میں بہن کو اس کا شرعی حصہ نہ دینا، تو ایسا کرنا ظلم و غصب اور گناہ کبیرہ ہے محض دوسرے وارث کاحصہ ہڑپ کرنے کی وجہ سے وہ شخص دائرہ اسلام سے خارج تو نہیں ہوگا لیکن شریعت کی نظر میں وہ سخت گنہ گار ہوگا اور اگر وہ سچی توبہ نہ کرے اور بہن کو اس کا حق ادا نہ کرے تو اس کے یہاں کھانے پینے سے احتیاط کی جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات