معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 171951

میری چار بیٹیاں ہیں۔ اور بیٹا نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ میری وراثت میرے مرنے کے بعد کیسے تقسیم ہوگئی۔

Published on: Aug 1, 2019

جواب # 171951

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:965-887/sd=11/1440



انتقال کے وقت جو ورثاء باحیات ہوں گے، اُن کے شرعی حصوں کے اعتبار سے وراثت تقسیم کی جائے گی،ابھی سے اس کی تعیین انتقال کے وقت باحیات ورثاء کی تفصیلات جاننے پر موقوف ہے، جس میں بہت طوالت ہے اور مختلف شقوں کے اعتبار سے شرعی حکم مختلف ہوگا، مثلا: بیٹیوں کے ساتھ آپ کی اہلیہ، والدین، بھائی بہن، بھتیجے باحیات رہیں گے یا نہیں؟ اس لیے اگر زندگی میں اپنی مملوکہ جائداد وغیرہ آپ تقسیم نہیں کرنا چاہتے ہیں ، تو وراثت کے سلسلے میں ابھی سے غور و فکر کرنے کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں ہے، بس اتنی وصیت کردیں کہ کسی معتبر دار الافتاء سے مراجعت کے بعد میرا متروکہ مال ورثاء کے درمیان شرعی حصوں کے اعتبار سے تقسیم ہونا چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات