متفرقات - تاریخ و سوانح

Pakistan

سوال # 172035

بیر الروحا جو کہ مدینہ منورہ سے کچھ فاصلے پر ہے بتایا جاتا ہے کہ یہ وہ ہی کنواں ہے جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ڈالا اور یہ پانی میٹھا ہو گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعہ درست ہے؟ اور کیا اس کا پانی شفاء سمجھ کر پینا درست ہے ؟ اوراپنے ملک لے کر جانا درست ہے ؟ تفصیلی رہنمائی فرما دیں۔ٍ

Published on: Aug 1, 2019

جواب # 172035

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1244-1065/H=11/1440



بیرحاء کنویں سے تو حضرت نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا پانی نوش فرمانا ثابت ہے اور بئر اِہاب ایک کنواں ہے مدینہ طیبہ سے جانب مغرب میں ہے اس کنویں میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنا لعاب مبارک ڈالا تھا اس کنویں کو مدینہ طیبہ کا زمزم کہا جاتا تھا اور اُس کا پانی بہت لوگ مثل ماء زمزم کے شہروں اور اطرافِ عالَم میں لے جایا کرتے تھے جیسا کہ ارشاد الساری الی مناسک ملا علی قاری ، ص: ۷۴۱و ص: ۷۴۲/ میں بسط و تفصیل سے ہے اس کنویں کے پانی کو شفاء کی امید سمجھ کر پینا بلاشبہ درست ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات