متفرقات - تاریخ و سوانح

Pakistan

سوال # 170780

مدینہ میں احد پہاڑ کی کیا تاریخی صفت ہے؟ نیز مسجد قبلتین اور مسجد قبا کی فضیلت بیان فرمادیں۔میرے شوہر نے یہ زیارتیں تو کروائیں لیکن انہیں ان کی تاریخی حثیت کا پتہ نہیں تہا کیا ریاض الجنتہ میں نفل پڑہنا ضروری ہے میں جب وہاں گئے تو عورتیں ایک دوسرے کو دہکے دے رہی تہیں، نیز ریاض الجنتہ کی فضیلت کیا ہے؟ مسجد نبوی میں جو 40 نمازوں کے متعلق حدیث پاک ہے تو کیا ایک عورت مسجد نبوی میں نماز ادا کرسکتی ہے جبکہ آپ حضرات فرماتے ہیں کہ عورت کا گہر میں نماز پڑہنا افضل ہے؟ چونکہ میرا تو کوئی عمل ہے ہی نہیں ہو سکتا ہے اس عمل کی برکت سے اللہ آخرت میں آسانی فرمائے میں نے مدینہ سے مکہ جاتے ہوئے احرام نہیں باندہا ایسا ناسمجہی کی وجہ سے ہوا.کیونکہ میں حیض کی حالت میں تہی اب اس کا کفارہ کیا ہے عمرہ کی قضا یا دم؟ اگر دم ہے تو کیسا جانور ہو اور کہاں ذبح کیا جائے اور اگر اس کی قضا ہے تو کب قضا کرنی چاہیے؟ میرا انشاء اللہ اسی سال دوبارہ عمرہ پہ جانے کا ارادہ ہے میں جب عمرہ کرنے گء تو شوہر بہی آگئے وہ سعودیہ میں ہی کام کرتے ہیں. احرام کہولنے کے بعد ازدواجی تعلقات بہی ہوئے.لیکن ایک بات نے مجہے بہت پریشان کیا..میرے شوہر مجہے برہنہ ہونے کے لئے مجبور کرتے. ساتہ نہانے کے لئے مجبور کرتے میں جانتی ہوں کہ اسلام میں اسکی گنجائش ہے لیکن اسطرح جب لائٹیں کہلی ہوں مجہے یہ سب ناپسند ہے. اور ہم مکہ اور مدینہ میں حرم کے بلکل نزدیک تہے سو مجہے ان جگہوں کی حرمت کی وجہ سے کچہ اچہا نہیں لگ رہا تہا میں نے شوہر سے کہا بہی کہ بے شک ازدواجی تعلق قائم کر لیں لیکن ایسی حرکتیں نہ کریں اس پر وہ ناراض ہو جاتے کیا ایک عورت اتنی بہی بااختیار نہیں کہ شوہر کو روک سکے جبکہ مجہے شوہر کی ناراضگی کا بھی ڈر تہا؟

Published on: Oct 6, 2019

جواب # 170780

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 909-111T/M=01/1441



احد پہاڑ یہ مدینہ منورہ کی آبادی سے باہر ایک کنارے پر کافی لمبا چوڑا پہاڑ ہے، اسی پہاڑ کے دامن پر جنگ احد ہوئی تھی اور یہیں پر سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کا مزار مبارک ہے اور احد کے موقع پر جو ستر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین شہید ہوئے وہ سب اسی جگہ مدفون ہیں، اس مقام کو چاروں طرف سے جالی سے گھیر دیا گیا ہے، مدینہ پہونچ کر شہداء احد کے مزارات کی زیارت کرنا بھی مستحب ہے۔



(۲) ہجرت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحکم خداوندی، بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی خواہش تھی کہ دوبارہ مسجد حرام کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھیں، اللہ تعالی نے آپ کی خواہش پوری فرمائی اور ہجرت کے دوسرے سال تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ظہر کی نماز کی امامت فرما رہے تھے کہ اللہ جل شانہ نے جبرئیل امین کے ذریعہ آپ کو اپنا رُخ مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام کی طرف موڑنے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ہی میں اپنا رُخ تبدیل کیا، تب سے اس مسجد کا نام مسجد قبلتین یعنی دو قبلوں والی مسجد مشہور ہوا اور آج تک اسی نام سے جانی جاتی ہے اس مسجد میں دو محرابیں ہیں ایک بیت المقدس کی جانب، دوسری کعبہ شریف کی جانب۔



(۳) مسجد قبا یہ تاریخ اسلام کی پہلی مسجد ہے یہ مدینہ منورہ سے تین کیلو میٹر کے فاصلہ پر ایک قدیمی گاوٴں ”قبا“ میں واقع ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے جب تشریف لائے تو یہاں پر چودہ دنوں تک قیام فرمایا اور مسجد کی تعمیر فرمائی۔ مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تشریف لایا کرتے تھے، اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہے۔



(۴) حجرہ عائشہ اور منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیانی حصہ کو ریاض الجنة کہا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں اس مقام کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ اس جگہ نماز پڑھنا ضروری تو نہیں لیکن ممکن ہو تو دو رکعت نفل پڑھ لینا چاہئے۔ اس جگہ نماز پڑھنا اور دعا کرنا باعث قبولیت ہے لیکن اس کے لئے ایک دوسرے کو دھکے دینا ہرگز درست نہیں، اگر ازدحام کی وجہ سے پڑھنا ممکن نہ ہو تو حرج نہیں۔



(۵) حدیث کے مطابق عورت کو اپنے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے۔ مسجد نبوی میں چالیس نمازوں کی جو فضیلت آئی ہے وہ عورت کو اپنے گھر یا مقام پر نماز پڑھنے کی صورت میں حاصل ہو جاتی ہے اس لئے عورتوں کو مدینہ میں بھی اپنے گھر یا جائے قیام پر ہی نماز پڑھنی چاہئے۔



(۶) احرام حالت حیض میں باندھنا جائز تھا بہرحال اگر صورت مسئولہ یہ ہے کہ مدینہ سے بلا احرام باندھے آپ مکہ چلی گئیں اور وہاں حیض سے پاک ہوکر مسجد عائشہ سے احرام باندھ کر عمرہ کے افعال مکمل کر لئے تو آپ کا عمرہ ادا ہوگیا؛ البتہ میقات سے بلا احرام گذرنے کی وجہ سے ایک دم واجب ہوا۔ یہ دم یعنی ایک بکرے کی قربانی حدود حرم میں دینی لازم ہے۔ اگر صورت واقعیہ کچھ اور ہے تو صحیح صورت حال لکھ کر سوال دوبارہ کر سکتی ہیں۔



(۷) تعلقات زوجیت کے بارے میں تمہارے جذبات عمدہ ہیں حکمت و نرمی سے شوہر کو سمجھائیں اگر وہ مان کر تمہارے جذبات کو ملحوظ رکھے تو بہتر ہے مگر اس معاملہ میں شوہر کے ساتھ سختی اور غصہ کا برتاوٴ نہ کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات