متفرقات - حلال و حرام

???????

سوال # 177314

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں۔ہمارے علاقے صوابی میں مالک زمین اپنی زمین کو اجارہ پر دیتے ہیں۔لیکن دیتے وقت لینے والے (کسان)سے پیشگی(پگڑی)وصول کرتے ہیں۔پھر جو کسان زیادہ پیشگی رقم دیتے ہیں ان کیلئے اجارہ کم کیا جاتا ہے۔اور جو کم پیشگی رقم دے۔توان کیلئے اجارہ زیادہ ہوتا ہے۔ جس میں غریب کسانوں کا نقصان ہے۔۔ تو پوچھنا یہ ہے۔
(1)یہ مذکورہ بالا صورت جائز ہے یا نہیں؟(سودی معاملہ تو نہیں) جائز صورت بھی تحریر کریں۔
(2) شرعاً پیشگی جائز ہے یا نہیں۔اور کونسی صورت میں داخل ہے(رہن ،امانت وغیرہ)
(3)کیا مالک زمین پیشگی رقم کو اپنے لئے بإذن المستأجر یا بلا إذنہ استعمال کرسکتا ہے یا نہیں ؟

Published on: Apr 5, 2020

جواب # 177314

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 645-544/D=08/1441



پیشگی رقم کرایہ دار جو مالک زمین کو دیتا ہے کیا کرایہ داری ختم ہونے پر وہ رقم کرایہ دار کو واپس مل جاتی ہے؟ اگر واپس مل جاتی ہے تو اس کے جائز ہونے کے لئے:



(۱) شرط یہ ہے کہ متعارف کرایہ پر دیا جائے اگر پیشگی رقم کی وجہ سے کرایہ کم کر دیا گیا جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو یہ صورت جائز نہیں۔ کل قرض جرّ منفعة فہی رباً کی بنیاد پر کرایہ کی کمی کا فائدہ اٹھانا سود میں داخل ہے۔



(۲) پیشگی رقم ابتداءً قرض ہے کیونکہ مالک کے اس کے استعمال میں لانے کا رواج ہے اور واپسی پر بعینہیہ رقم نہیں واپس کی جاتی بلکہ اس کا متبادل دیا جاتا ہے نیز پیشگی دینا جائز ہے اور اس کی بنیاد پر کرایہ داری کا معاملہ کرنا بھی درست ہے بشرطیکہ متعارف کرایہ پر معاملہ ہو پیشگی کی وجہ سے کرایہ میں کمی نہ کی جائے، جیسا کہ اوپر لکھا گیا۔



(۳) استعمال کر سکتا ہے کیونکہ یہ قرض ہے اور عرف میں اس کے استعمال کا رواج ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات