عبادات - حج وعمرہ

Saudi Arabia

سوال # 175366

میرا ہرنیا یعنی پیٹ کا آپریشن ہوا ہے ڈاکٹروں نے پیٹ کو چیر کر آپریشن کیا اور ناف کو نکال دیکر پیٹ کو سی دیا یعنی ٹاکے لگا دئے ،اب میرے پیٹ میں ناف نہیں ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ناف کا پیٹ میں رہنا ضروری نہیں ہے عمرہ میں طواف کے دوران میرا وضو بار بار ٹوٹ رہا تھا' اس لیے میں چار طواف سے پہلے وضو ٹوٹ جاتا تھا تو دوبارہ وضو کرکے پھر طواف شروع کرتا' اسی طرح دو تین مرتبہ طواف کو دوہرایا میرا سوال یہ تھا کہ کیا ان حالات میں یعنی ایسے گیس خارج ہونے کی بیماری میں وضو کا ہر مرتبہ دوہرانا ضروری ہے کیا؟ جزاک اللہ خیر۔

Published on: Nov 27, 2019

جواب # 175366

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 302-284/M=03/1441



گیس خارج ہونے کی بیماری اگر عذر شرعی کی حد تک نہیں ہے تب تو گیس خارج ہونے پر ہر مرتبہ وضو ٹوٹنے کا حکم ہوگا اور دوران طواف جب جب گیس خارج ہو تب تب وضو دہرانا ہوگا اور اگر گیس کی بیماری شرعی عذر کی حد تک ہے یعنی اتنی کثرت سے خارج ہوتی ہے کہ وضو کرکے فرض نماز ادا کرنے کے بقدر بھی خالی وقفہ نہیں ملتا تو آدمی شرعاً معذور ہے اور معذور شرعی کو یہ رخصت حاصل ہے کہ وہ ایک نماز کے وقت میں وضو کرلے تو وقت کے اخیر تک اس کا وضو برقرار مانا جاتا ہے اور درمیان وقت میں وہ عذر پیش آجائے تب بھی وضو نہیں ٹوٹتا؛ بلکہ وقت کے ختم ہونے پر اس کا وضو ختم ہوتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات