عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 175111

میں جدہ میں مقیم ہوں، ہم گھومنے طائف جاتے ہیں، کیا واپسی میں عمرہ کرنا لازمی ہے؟

Published on: Dec 24, 2019

جواب # 175111

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:280-231/N=4/1441



اگر آپ جدہ سے طائف جاکر پھرسیدھے ( حدود حرم سے باہر باہر ) جدہ واپس آتی ہیں تو واپسی میں عمرے کا احرام باندھنے اور مکہ مکرمہ جاکر عمرہ کرنے کی ضرورت نہیں، آپ بلا احرام سیدھے جدہ آسکتی ہیں ؛ البتہ اگر واپسی میں مکہ مکرمہ کا ارادہ ہو یا حدود حرم کے اندر ہوکر گذرنے کا ارادہ ہو تو پھر میقات سے عمرے کا احرام باندھنا اور مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ کرنا ضروری ہوگا؛ کیوں کہ جدہ، میقات (قرن المنازل/ السیل الکبیر)سے باہر ہے۔



وحرم تأخیر الإحرام عنھا کلھا لمن أي: لآفاقي قصد دخول مکة یعنی: الحرم ولو لحاجة غیر الحج (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحج، ۳:۴۸۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، من أتی میقاتاً بنیة الحج أو العمرة أو دخول مکة أو دخول الحرم لا یجوز لہ أن یجاوزہ إلا بإحرام (البحر العمیق، ص ۶۱۷)، أما لو قصد موضعاً من الحل کخلیص وجدة الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحج، ۳:۴۸۲)، قولہ: ”أما لو قصد موضعاً من الحل“: مما بین المیقات والحرم (رد المحتار)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات