عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 173773

میں اور میری بیوی عمرہ کے لیے گئے، جدہ میں میری بیوی کو حیض شروع ہوگیا ، آٹھ دن بعد مدینہ روانگی تھی اور حیض بند نہیں ہوا، میری بیوی نے ارکان ادا کی حیض کی حالت میں اور احرام کھول دیا، میں نے ایک بقرہ دم دیدیا، براہ کرم، جواب دیں۔

Published on: Nov 10, 2019

جواب # 173773

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 130-159/D=03/1441



عمرے کا طواف ناپاکی کی حالت میں کرنے کی وجہ سے ایک دم واجب ہوا، اور ایک دوسرا دم مذکورہ طواف کے بعد سعی کرنے کی وجہ سے، تو کل دو دم واجب تھے، پورے بدنہ کی ضرورت نہ تھی، بہرحال بدنہ کی قربانی کرنے سے دونوں دم ادا ہوگئے۔ لو طاف للعمرة کلہ أو أکثرہ أو أقلہ ولو شوطاً ، جنباً أو حائضاً أو نفساء ، أو محدثاً ، فعلیہ شاة ۔ (رد المحتار، الحج/ الجنایات، ۳/۵۸۳، ط: زکریا)



في الغنیة: فصل في واجبات السعي، ہي ستة ، الأول: کونہ بعد طواف علی طہارة عن الجنابة والحیض، ․․․․․ فلو طاف للقدوم علی غیر طہارة وسعی بعدہ، إن کان جنباً فعلیہ إعادة السعي وجوباً بعد طواف الزیارة، وإن لم یعد فعلیہ دم ۔ (۱۸۳، یادگار شیخ، فصل في واجبات السعي) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات