عبادات - حج وعمرہ

India

سوال # 173113

لسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ. میرا یہ سوال ہے کہ, ہم حنفی لو جب حج کرنے جاتے ہیں یا پھر عمرہ کرنے جاتے ہیں تو, شافعی مسلک کے وقت کے حساب سے نماز پڑھتے ہیں. ہندوستان واپس آنے کے بعد اگر کوئی شافعی مسلک کے حساب سے نماز پڑھ رہا ہو تو, ابھی وقت نہیں ہوا کہہ کر انہیں روکتے ہی کیوں? امید ہے کہ جواب دینگے اللہ حافظ

Published on: Oct 7, 2019

جواب # 173113

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 34-24/B=01/1441



امام صاحب کے دو قول ہیں احوط اور مفتی بہ قول کے مطابق عصر کا وقت دو مثل کے بعد شروع ہوتا ہے؛ اس لئے ہندوستان میں رہتے ہوئے مفتی بہ قول کے مطابق نماز پڑھیں لیکن حرمین میں اگر مثل ثانی ختم ہونے سے پہلے عصر کی نماز پڑھ لی جائے تو امام صاحب کے دوسرے قول کے مطابق نماز درست ہو جائے گی تاکہ حرمین میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے ثواب سے محرومی نہ ہو۔ ووقت الظہر من زوالہ إلی بلوغ الظّلّ مثلیہ وعنہ مثلہ سوی فيء الزوال ۔ قال الشامی: وعن الإمام إلی بلوغ الظل مثلہ ۔ (الدر مع الرد ، کتاب الصلاة ، ۲/۱۴، ۱۵، ۱۶، زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات