عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

Pakistan

سوال # 176488

آپ سب کے علم و عمل میں برکتیں عطا فرمائے غرباء و مساکین کو کھانا کھلانا اس کی فضیلت کی حقیقت کا علم ہے مگر اس بات پر آپ کی راہنمائی درکار ہے، کسی نے کہا کہ اگر ولیمے کے کھانے میں غرباء و مساکین کو شامل نہ کیا تو اس ولیمے کا کھانا حرا ہوتا ہ، نیز ولیمے کے حوالے سے جو اللہ کے حکم اور ہمارے نبی کا طریقہ ہے اس کے بارے میں بھی راہنمائی فرمائیں ۔ اللہ آپ سب کی حفاظت فرمائے۔

Published on: Feb 16, 2020

جواب # 176488

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:568-413/sn=6/1441



جس ولیمے میں غربا اور مساکین کو شامل نہ کیا جائے ، محض مالداروں کو مدعو کیا جائے اور انھیں کو ترجیح دی جائے ،اس میں شریک ہوکر کھانا کھانا ناجائز وحرام تو نہیں ہے؛ لیکن احادیث میں ایسے ولیمے کے کھانے کو بدترین ولیمہ کہا گیا ہے، سنت طریقہ یہ ہے کہ ولیمے میں اعزہ واقارب وغیرہ میں سے محض مالدار اور باحیثیت لوگوں کو بلانے پر اکتفا نہ کیا جائے ؛ بلکہ غربا ومساکین کو بھی مدعو کیا جائے اور انھیں بھی عزت کے ساتھ کھانا کھلایا جائے ۔



وعن أبی ہریرة قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: شر الطعام طعام الولیمة یدعی لہا الأغنیاء ویترک الفقراء ومن ترک الدعوة فقد عصی اللہ ورسولہ. (مشکاة المصابیح ، باب الولیمة ، الفصل الأول 2/ 961، ط: المکتب الإسلامی - بیروت)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات