عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

???????

سوال # 175831

مفتی صاحب ایک تبلیغی بھائی اپنے بیان میں کہتا ہے کہ پانی پینے میں چھ سنتیں ہیں۔ اور ایک سنت پر سو شہیدوں کا ثواب ملتا ہے ۔ تو گویا پانی پینے پر اس کو چھ سو شہیدوں کا چواب ملے گا، کیا اس کی یہ بات ازروئے شریعت درست ہے ؟ حالانکہ اہل حق علمائے دیوبند ان کو ایسی باتیں کرنے سے روکتے بھی ہیں۔ بینوا توجروا۔

Published on: Jan 16, 2020

جواب # 175831

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 412-334/D=05/1441



اس سلسلے میں حضرت ابوہریرة رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ: ”من تمسّک بسنّتي عند فساد أمّتي فلہ أجر مائة شہید“ (مشکاة المصابیح باب الاعتصام بالکتاب والسنّة ، ص: ۳۰) لیکن اس حدیث کی صحت کے بارے میں محدثین کا اختلاف ہے، بعض محدثین مثلا امام ذہبی، دارقطنی اور ابوحاتم وغیرہ نے اس حدیث کو ضعیف اور متروک قرار دیا ہے؛ البتہ دوسرے بعض محدثین نے اسے صحیح قرار دیا ہے، بہرحال یہ حدیث قابل عمل ہے؛ اس لئے کہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قابل عمل ہوتی ہے۔



لیکن حدیث میں جو فضیلت بیان کی گئی ہے وہ عام سنت کے لئے نہیں؛ بل کہ اس وقت کے لئے ذکر فرمائی گئی ہے جب کہ امت میں فساد ہو اور سیرت نبویہ پر عمل ترک ہو چکا ہو بسااوقات ایک سنت پر عمل کرنے میں جان و مال عزت و آبرو کی بازی لگانی پڑ جائے گی؛ لہٰذا حدیث کی فضیلت اسی سنت کو زندہ کرنے پر حاصل ہوگی جن پر عمل کرنا انتہائی دشوار ہو۔



رہی بات عام سنتوں کی مثلا پانی پینے کی سنتیں وغیرہ تو ان پر عمل کرنے سے سنت کا ثواب تو حاصل ہوگا؛ لیکن حدیث مذکور کی فضیلت حاصل نہیں ہوگی۔ في المرقاة: لما یلحقہ من المشقّة بالعمل بہا وبإحیائہا وترکہم لہا کالشہید المقاتل مع الکفار لإحیاء الدین بل أکثر۔ (مرقاة المفاتیح: ۱/۳۸۴) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات