عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

Pakistan

سوال # 175727

تفسیر ابن ابی حاتم میں اس آیت "اصحاب الجنة یومئذ خیر مستقر و احسن مقیلا " کے تحت ایک روایت بیان کی ہے کہ عن ابن مسعود قال لاینتصف النھار حتی یقیل ھولاء وھولاء ثم قرء (اصحاب الجنة یومئذ خیر مستقر و احسن مقیلا ) ثم مقیلھم لالی الجھیم ۔ اس سے یہ سوالات ذہن میں آئے کہ ۱_اس روایت میں نصف نہار سے کیا مراد ہے ؟
۲_حساب کتاب والی دن کا دورنیہ کتنا ہوگا ؟
۳_کیا وہاں کے دن رات اور دنیا کے دن رات میں فرق ہے ؟ ان سولات کی باحوالہ جوابات کی درخوست ہے ؟

Published on: Feb 8, 2020

جواب # 175727

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:261-338/sd=6/1441



 (۱، ۲،۳) نصف النہار کی حقیقت، حساب کتاب والے دن کا دورانیہ اور دن و رات کی حقیقت؛ ان سب کا صحیح علم اللہ تعالی ہی کو ہے، البتہ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نے تفسیر قرطبی کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس آیت میں مقیلا کا ذکر خصوصیت سے شاید اس لیے بھی ہوا ہے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے روز حق تعالی شانہ نصف النہار سے پہلے پہلے مخلوقات کے حساب کتاب سے فارغ ہوجائیں گے اور دوپہر کے سونے کے وقت اہل جنت جنت میں پہنچ جائیں گے اور اہل جہنم جہنم میں۔ ( معارف القرآن، سورہ فرقان، آیات نمبر: ۲۴) باقی مزید تفصیل کے لیے آپ تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر قرطبی میں مذکورہ آیت سے متعلق دوسری روایات دیکھیں،ان روایات میں نصف النہار اور حساب کتاب کے دورانیہ سے متعلق بھی کچھ تفصیل موجود ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات