عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 175508

میں جاننا چاہتا ہوں کہ ” اصحابی کالنجوم “ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہے ، کسی ایک کی بھی اتباع کرلو فلاح کو پہنچ جاؤگے‘۔
کیایہ حدیث ہے یا نہیں؟ براہ کرم، حوالے کے ساتھ جواب دیں۔ جزاک اللہ

Published on: Jan 21, 2020

جواب # 175508

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:342-350/N=5/1441



جی ہاں! أصحابي کالنجوم، حدیث ہے اور کم از کم حسن درجے کی ہے۔تفصیل کے لیے ”دین کی بنیادیں اور تقلید کی ضرورت“ نامی رسالہ کے اخیر میں حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری مد ظلہ العالی کا مضمون بہ نام: ”حدیث: أصحابي کالنجوم، بأیھم اقتدیتم اھتدیتم کا استناد“ ملاحظہ کیا جائے۔



بل قد حسنہ الصغاني کما قال حسن الطیبي في حواشي ”المشکاة“ المسماة ب ” الکاشف عن حقائق السنن“ تحت حدیث: ”فضل العالم علی العابد…“ الحدیث: قد شبھوا أي: الصحابة بالنجوم في قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”أصحابي کالنجوم“، حسنہ الإمام الصغاني، انتھی، ونحوہ في حواشي السید علی ”المشکاة“، وفي ”شرح مختصر المنار“ لقاسم بن قطلوبغا: رواہ الدار قطني وابن عبد البر من حدیث ابن عمر رضي اللہ عنھما، وقد روي معناہ من حدیث أنس، وفي أسانیدھا مقال لکن یشد بعضھا بعضاً، انتھی (نخبة الأنظار)، قال عبد الفتاح: انظر ما علقتہ علی ”فتح باب العنایة“ لعلي القاري ۱: ۱۳، وفیہ ما یفید ورود ھذا الحدیث في الجملة وأنہ لیس بموضوع (التعلیق علی تحفة الأخیار بإحیاء سنة سید الأبرار، ص: ۵۴، ط: مکتب المطبوعات الإسلامیة، حلب)، وأما ابن عبد البر فاحتج بہ في ”التمھید“ وسکت علیہ، فلعلہ رأی مجموع تلک الطرق تقوي متن الحدیث أو عرف لہ شواھد مما یقوي معناہ، واللہ أعلم (المصدر السابق، ص: ۶۳)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات