عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 175428

میں نے سنا ہے کہ” جو کوئی بھی سمندری راستے سے اللہ کے راستے میں جائے اور اس کی موت کا وقت قریب آجائے تو اللہ تعالی خود اس کی روح لیتے ہیں“، کیا یہ حدیث ہے؟ اگر ہاں تو حدیث کا حوالہ دیں، اور اس حدیث کا مطلب بھی بتائیں ۔ جزاک اللہ
اللہ آپ حضرات کی کوششوں کو قبول فرمائے ، اللہ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے، آمین ۔

Published on: Dec 25, 2019

جواب # 175428

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:402-279/sn=4/1441



یہ ایک طویل حدیث کا حصہ ہے ، جو ابن ماجہ میں مروی ہے ، یہ حدیث سمندر ی راستے سے گزر کر اعلائے کلمة اللہ کے لیے راہ خدامیں جہاد وقتال کرتے ہوئے جان دینے والے مجاہدین کی فضیلت کے بارے میں ہے ۔ پوری حدیث کا متن درج ذیل ہے ۔ واضح رہے کہ یہ حدیث محدثین کے اصول کے مطابق ضعیف ہے ۔



عن سلیم بن عامر قال: سمعت أبا أمامة یقول: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: شہید البحر مثل شہیدی البر، والمائد فی البحر کالمتشحط فی دمہ فی البر، وما بین الموجتین کقاطع الدنیا فی طاعة اللہ، وإن اللہ عز وجل وکل ملک الموت بقبض الأرواح إلا شہید البحر، فإنہ یتولی قبض أرواحہم ویغفر لشہید البر الذنوب کلہا، إلا الدین ولشہید البحر الذنوب والدین .[سنن ابن ماجہ ، رقم: 2778،باب فضل غزو البحر)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات