عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 174658

کیا لمبی ٹوپی یعنی دو پلہ ٹوپی پہننا حدیث اور سنت سے ثابت ہے؟ بحوالہ حدیث جواب مرحمت فرمائیں۔

Published on: Dec 9, 2019

جواب # 174658

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 245-225/D=04/1441



ٹوپیوں کے سلسلے میں حضرت ابوکبشہ کی روایت ہے: کان کمام أصحاب رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - بطحا ۔ (مشکاة، ص: ۳۷۴)



اس حدیث سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیم اجمعین کی ٹوپیاں سروں سے چپکی ہوئی ہوتی تھیں، اٹھی ہوئی نہیں ہوتی تھیں، جیسا کہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اس کی وضاحت کی ہے: أي مبسوطة علی روٴسہم ولازقة مع روٴسہم غیر مرتفعة (مرقاة المفاتیح: ۸/۲۰۹، کتاب اللباس) کہ سروں سے لگی اور چپکی ہوتی تھیں، اٹھی ہوئی نہیں ہوتی تھیں۔



اور مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ کے بقول: ”اس میں لمبی اور گول ٹوپی کی کوئی تصریح نہیں ہے صرف یہ بات مذکور ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی ٹوپیاں سر سے چپکی ہوئی ہوتی تھیں اوپر کو ابھری ہوئی بلند نہیں تھیں“ (فتاوی محمودیہ: ۱۹/۳۰۳، دارالمعارف دیوبند)



لیکن یہ ہمیشہ کی حالت نہیں ہے؛ بلکہ ملا علی قاری رحمہ اللہ نے یہ بات بھی ذکر کی ہے: وکان ربّما نزع قلنسوتہ فجلعہا سترة بین یدیہ ویصلّی ۔ (مرقاة المفاتیح: ۸/۲۱۰، کتاب اللبسا، فیصل دیوبند)



معلوم ہوا کہ بسااوقات ان کی ٹوپیاں سر سے چپکی ہونے کے ساتھ اونچی اور اٹھی ہوئی بھی ہوتی تھیں جسے نماز میں سامنے رکھ لیتے تھے، پس ٹوپی کا سر سے چپکا ہوا ہونا یا اٹھا ہوا ہونا دونوں حدیث سے ثابت ہوا۔



ٹوپیاں خواہ گول ہوں یا لمبی یعنی دوپلہ ہوں دونوں صلحاء کا لباس ہے بعض اکابر گول ٹوپی پہنتے اور بعض اکابر لمبی پہنتے تھے۔ اور اکابر صلحاء کا لباس قابل اتباع ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات