عقائد و ایمانیات - فرق باطلہ

India

سوال # 176593

مسئلہ یہ ہے کہ ۲۴ فلیٹس کا اپارٹمنٹ ہے جس میں فلیٹ بیچتے وقت بلڈر نے وہ جگہ سب کو پارکنگ کے لیے دی تھی جس میں کچھ لوگ بغیر مشورہ کئے مسجد بنا رہے ہیں، میرا سوال یہ ہے کہ؛
(۱) کیا ایسی جگہ مسجد بنائی جاسکتی ہے جو پارکنگ کے لیے الاٹ ہوئے ہوں؟
(۲) کیا ایسی جگہ نماز ادا کی جاسکتی ہے؟
(۳) ایسی جگہ نماز ادا نہیں کی جاسکتی ہے تو وہ جگہ کیا مسجد کہلانے کے لائق رہے گی ؟
براہ کرم، جواب دیں۔

Published on: Feb 16, 2020

جواب # 176593

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 503-417/D=06/1441



(۱) اَپارٹمنٹ جس میں چوبیس (24) فلیٹس ہیں اس کے نیچے کی زمین جو پارکنگ کے لیے چھوڑی گئی ہے اس کو دائمی طور پر مسجد بنانا صحیح نہیں ہے؛ کیوں کہ مسجد تحت الثری سے لے کر ثریا تک ہوتی ہے اور دائمی طور پر مسجد کے لیے ہی وقف ہوتی ہے، یہ دونوں باتیں یہاں نہیں پائی جا رہی ہیں؛ لہٰذا اس جگہ کو مستقل مسجد نہیں بنا سکتے۔ وکرہ تحریما الوطوٴ فوقہ ؛ لأنّہ مسجد إلی عنان السماء ۔ قال الشامي: وکذا إلی تحت الثری ۔ (درمختار مع شامي: ۲/۴۲۸، زکریا)



البتہ وہاں نماز پڑھنے کا اہتمام کرلینا جس کو مصلی یا جماعت خانہ سے تعبیر کر لیا جائے تو جائز ہے؛ لیکن فلیٹس کے تمام مالکان کی رضامندی ضروری ہے۔ واضح رہے کہ نماز کا انتظام بھی عارضی ہوگا۔ مالکان فلیٹ جب چاہیں یہاں سلسلہٴ نماز کو بند کر سکتے ہیں، بند کرنے سے ان پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔



(۲) مالکان کی اجازت کے بعد جب وہاں نماز قائم کی جائے گی تو اس کی ادائیگی بھی صحیح ہوگی۔



(۳) اوپر لکھا جا چکا کہ وہ مسجد شرعی نہیں ہوگی بلکہ اسے عارضی مصلی یا جماعت خانہ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات