India

سوال # 174601

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ، مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ کسی کو منہ بولا بیٹا یا بیٹی بنانا کیسا ہے ؟کیا شریعت نے اس کی اجازت دیتے ہیں؟
تسلی بخش جواب مطلوب ہے۔

Published on: Dec 3, 2019

جواب # 174601

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:298-258/L=4/1441



تربیت ،پرورش اور کفالت وغیرہ کے لیے کسی دوسرے کے بچے کو گود لینا جائز ہے؛لیکن گود لیا ہوا بچہ مذہب اسلام میں کسی بھی حکم میں حقیقی اولاد کا درجہ نہیں رکھتا؛ اس لیے گود لینے والے کا اس کے نام کے ساتھ بحیثیت باپ اپنا نام لگانا،وراثت میں اس کا حق دار ہونا اور بالغ یا قریب البلوغ ہونے کے بعد گود لینے والے مرد یا عورت کا اس سے پردہ شرعی نہ کرنا (جب کہ اس بچہ یا بچی سے گود لینے والے مرد یا عورت کے لیے حرمت کا کوئی رشتہ نہ ہو)وغیرہ درست نہ ہوگا۔زمانہ جاہلیت میں گود لینے کی ایک حیثیت تھی اور کسی دوسرے کے بچے کو گود لینے سے یا اسے اپنا بیٹا قرار دینے سے وہ حقیقی اولاد کے حکم میں ہوجاتا تھا، گود لینے والا اس کے ساتھ مکمل طور پر حقیقی اولاد جیسا معاملہ کرتا تھا، لیکن جب اسلام آیا تو اس نے اسے باطل وبے بنیاد قرار دیا۔



قال اللہ تعالی:ادعوھم لآبائھم ھو أقسط عند اللہ الآیة(سورہ احزاب ، آیت:۵)،وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم:من ادعی إلی غیر أبیہ فعلیہ لعنة اللہ والملائکة والناس أجمعین، لا یقبل منہ صرف ولاعدل (مشکوة شریف ص ۲۳۹، بحوالہ: صحیحین )، وقال فی روح المعانی (۲۱: ۲۲۶،ط:مکتبة إمدادیة، ملتان،باکستان):ویعلم من الآیة أنہ لا یجوز انتساب شخص إلی غیر أبیہ وعد ذلک بعضھم من الکبائر اھ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات