Bangladesh

سوال # 174503

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و فقہاء شرع متین اس مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اگر کوئی مر د نو جوان عورتوں کو قرآن کریم کی تعلیم دی اونچی آواز سے جو باہر کے لوگ بھی سونے کیا یہ شرعاً جائز ہے اگر جائز نہیں؟ تو جو از کی کیا کوئی صورت ہے؟مع دلیل جواب سے نوازیں۔

Published on: Oct 21, 2019

جواب # 174503

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:40-10T/sn=2/1441



نوجوان عورتوں کی تعلیم کا انتظام مردوں کے بہ جائے عورتوں کے ذریعے کیا جائے اور انتظام اس طرح کیا جائے کہ عورتوں کی آواز باہر نہ جائے، عورتوں کا اتنی بلند آواز سے قرآن کریم پڑھنا کہ اجنبی مرد ان کی آواز کو سنے درست نہیں ہے، اس میں خوف فتنہ ہے۔



(وللحرة)...(جمیع بدنہا)...(خلا الوجہ والکفین) ...(والقدمین) علی المعتمد ، وصوتہا علی الراجح...... (قولہ وصوتہا) معطوف علی المستثنی یعنی أنہ لیس بعورة ح (قولہ علی الراجح) عبارة البحر عن الحلیة أنہ الأشبہ. وفی النہر وہو الذی ینبغی اعتمادہ. ومقابلہ ما فی النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمہا القرآن من المرأة أحب. قال - علیہ الصلاة والسلام - التسبیح للرجال، والتصفیق للنساء فلا یحسن أن یسمعہا الرجل. اہ. وفی الکافی: ولا تلبی جہرا لأن صوتہا عورة، ومشی علیہ فی المحیط فی باب الأذان بحر. قال فی الفتح: وعلی ہذا لو قیل إذا جہرت بالقراء ة فی الصلاة فسدت کان متجہا، ولہذا منعہا - علیہ الصلاة والسلام - من التسبیح بالصوت لإعلام الإمام بسہوہ إلی التصفیق اہ وأقرہ البرہان الحلبی فی شرح المنیة الکبیر، وکذا فی الإمداد؛ ثم نقل عن خط العلامة المقدسی: ذکر الإمام أبو العباس القرطبی فی کتابہ فی السماع: ولا یظن من لا فطنة عندہ أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نرید بذلک کلامہا، لأن ذلک لیس بصحیح، فإنا نجیز الکلام مع النساء للأجانب ومحاورتہن عند الحاجة إلی ذلک ، ولا نجیز لہن رفع أصواتہن ولا تمطیطہا ولا تلیینہا وتقطیعہا لما فی ذلک من استمالة الرجال إلیہن وتحریک الشہوات منہم ، ومن ہذا لم یجز أن تؤذن المرأة. اہ. قلت: ویشیر إلی ہذا تعبیر النوازل بالنغمة (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 2/ 77،78،ط: زکریا، دیوبند، کتاب الصلاة، باب شروط الصلاة)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات