Pakistan

سوال # 173172

آج سے تقریبا 17 سال پہلے کی بات ہے کہ ہم نے ایک لڑکا ایک عورت سے لیا۔وہ عورت کوئی غریب تھی اور وہ اپنا بچہ ضائع کروانا چاہتی تھی۔اس کا کہنا تھا کہ غریب ہوں اس بچے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتی۔اس طرح ہم نے اس کو کہا ک وہ بچہ جنم دے اس کے اخراجات ہم برداشت کریں گے۔کیونکہ ہماری اولاد نہیں تھی اس لیئے ہم نے اس میں دلچسپی لی ۔جب بچہ پیدا ہوا تو ہم نے اس عورت کو پیسے دیئے اور بچہ ہم اپنے گھر لے آئے۔اس کے بعد ہم نے اس کو اپنا نام دیا یعنی کہ اس بچے کی ولدیت میں اپنا نام لکھوا دیا۔آج 17 سال گزرنے کے بعد رشتہ داروں نے بتایا کہ یہ کام ہم نے غلط کیا ہے۔سورةالاحزاب بھی پڑھ کر بتائی گئی ۔ہم تو صدق دل سے توبہ کرتے ہیں معافی مانگتے ہیں۔اللہ کریم کرم والا معاملہ فرمائیں اور ہمیں معاف فرما دیں۔ اس بچے کے اصل والدین کا اب کچھ معلوم نہیں کہ اب وہ کہاں ہیں۔نام تک معلوم نہیں ۔ہم دیہاتی لوگ ہیں اور وہ عورت کوئی پٹھان تھی وہ کہیں چلی گئی تھی اب اس کا ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے۔اور اس کا پتہ بھی نہیں مل رہا۔ اب آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس کا حل بتائیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟اور اس کی وراثت کے بارے میں بھی بتائیں۔اس کو جائیداد تحفہ کر سکتے ہیں۔نیز اس کی ولدیت کیا لکھوائیں ۔ اس کا جواب جلد دیں ۔

Published on: Oct 7, 2019

جواب # 173172

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 19-25/M=01/1441



صورت مسئولہ میں آپ نے جس بچے کو گود لیا تھا وہ اجنبی تھا تو وہ آپ کا حقیقی بیٹا نہیں، لہٰذا آپ کی وراثت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا، ہاں آپ اپنی حیات میں اپنی کچھ جائیداد اسے ہبةً (تحفہ میں) دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، اور دے کر مالک و قابض بنادیں تاکہ ہبہ تام ہو جائے، جب آپ حقیقی باپ نہیں تو ولدیت میں آپ کا اپنا مام لکھوانا صحیح نہیں، اگر اس بچے کے حقیقی باپ کا علم نہیں تو آپ اپنا نام کفیل یا پرورش کنندہ کے طور پر لکھوا سکتے ہیں، حقیقی باپ کی حیثیت سے نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات