India

سوال # 172914

خدمت اقدس میں تحریر یہ ہے کہ ولدالزنا کا نفقہ کس پر ہوگا ؟ عربی عبارت کے ساتھ جواب عنایت فرمادیں تو مہربانی ہوگی۔

Published on: Sep 12, 2019

جواب # 172914

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1165-951/sn=1/1441



ولد الزنا کا نفقہ ماں پر ہے ،اگر ماں نہ ہو یا غیر مستطیع ہو تو ماں کے توسط سے جو لوگ اس کے وارث ہوں گے ان پر اس کا نفقہ لازم ہوگا، زانی پر واجب نہیں ہے ؛ کیونکہ اس سے نسب ثابت نہیں ہوتا نیز وہ وارث بھی نہیں ہوتا، جب کہ ماں اور ان کے و اسطے سے ان کے دیگر رشتے دار وارث ہوتے ہیں ، اور نفقہ بہت سی صورتوں میں میراث کے تابع ہوتا ہے ۔



....قالوا فی حرمة بنتہ من الزنا إن الشرع قطع النسبة إلی الزانی لما فیہا من إشاعة الفاحشة فلم یثبت النفقة والإرث لذلک، وہذا لا ینفی النسبة الحقیقیة لأن الحقائق لا مرد لہا فمن ادعی أنہ لا بد من النسبة الشرعیة فعلیہ البیان.[الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 4/ 371،ط:زکریا، دیوبند)(ویرث ولد الزنا واللعان بجہة الأم فقط) لما قدمناہ فی العصبات أنہ لا أب لہما(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 8/ 391، باب إقرار المریض، ط: دیوبند) نیز دیکھیں: خیر الفتاوی 5/153،ط: امدادیہ، ملتان، امداد الفتاوی4/340،سوال:424،ط: کراچی)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات