India

سوال # 172011

میں نے ایک لڑکی کو گود لیا ہوں جس کی ولادت کے وقت اس کی ماں کا انتقال ہو گیا تھا اور پھر میری اہلیہ نے ہی اسے دودھ پلایا ہے. میرا سوال یہ ہے کہ چونکہ بہت سارے قانونی کاموں میں (مثلاً پاسپورٹ یا اور کوئی دستاویز بنوانا) باپ کی موجودگی یا اس کی دستخط کی ضرورت پڑتی ہے اور ہر بار اس کے حقیقی والد کو سینکڑوں کلومیٹر دور سے بلانا مشکل ہوگا، تو کیا اس وجہ سے میں اس کے دستاویزات میں اس کے والد کے نام کی جگہ اپنا نام استعمال کر سکتا ہوں؟ یہ بھی بتا دوں کہ جب وہ بچی با شعور ہو جائے گی تو ان شاء اللہ میں اسے حقیقت بتا دوں گا اور شرعی اعتبار سے جہاں کہیں بھی حقیقی والد کے نام کی ضرورت ہو (مثلاً نکاح وغیرہ) وہاں انہیں کا نام لیا جائے گا. مقصد صرف قانونی پیچیدگیوں سے بچنا ہے اور اس کے والد بھی اس پر راضی ہیں. خیرا خیرا

Published on: Jul 29, 2019

جواب # 172011

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1351-171T/L=11/1440



گود لینے والے کا متبنی (لڑکا یا لڑکی ) کی ولدیت کی جگہ اپنانام لکھوانا جائز نہیں ،حدیث شریف میں اس پر سخت وعید آئی ہے ،دستاویزات وغیرہ تو باربار نہیں بنوائے جاتے ہیں ؛اس لیے شروع سے ہی ان میں حقیقی والد کا نام لکھوایا جائے ،ایک دوبار کی آمدورفت میں زحمت تو ہوگی مگر آدمی ایک ناجائز کام سے بچ جائے گا ۔



قال اللہ تعالی:ادعوھم لآبائھم ھو أقسط عند اللہ الآیة(سورہ احزاب ، آیت:۵)،وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم:من ادعی إلی غیر أبیہ فعلیہ لعنة اللہ والملائکة والناس أجمعین، لا یقبل منہ صرف ولاعدل (مشکوة شریف ص ۲۳۹، بحوالہ: صحیحین )، وقال فی روح المعانی :ویعلم من الآیة أنہ لا یجوز انتساب شخص إلی غیر أبیہ وعد ذلک بعضھم من الکبائر اھ. ( روح المعانی ۲۱: ۲۲۶،ط:مکتبة إمدادیة، ملتان،باکستان)



 و قال فی المرقاة: قال النووی: کان صلی اللہ وسلم تبنّی زیدًا ودعاہ ابنہ،وکانت العرب تتبنّی موالیَہم وغیرہم فیصیر ابنا لہ یوارثہ وینسب إلیہ حتی نزل القرآن أی الآیة منہ ادعوھم لآبائھم أی: انسبوھم لآبائھم ھو أقسط، أی: أعدل عند اللہ فإن لم تعلموا آبائھم فإخوانکم فی الدین وموالیکم (الأحزاب:۵) فرجع کل إنسان إلی نسبہ․ (مرقاة المفاتیح: ۳۹۷۴/۹، کتاب المناقب، باب مناقب أہل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ط: دار الفکر بیروت، لبنان)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات