India

سوال # 171664

میں نے ایک لڑکی کو گود لیا ہوں جس کی ولادت کے وقت اس کی ماں کا انتقال ہو گیا تھا اور پھر میری اہلیہ نے ہی اسے دودھ پلایا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ چونکہ بہت سارے قانونی کاموں میں (مثلاً پاسپورٹ یا اور کوئی دستاویز بنوانا) باپ کی موجودگی یا اس کی دستخط کی ضرورت پڑتی ہے اور ہر بار اس کے حقیقی والد کو سینکڑوں کلومیٹر دور سے بلانا مشکل ہوگا، تو کیا اس وجہ سے میں اس کے دستاویزات میں اس کے والد کے نام کی جگہ اپنا نام استعمال کر سکتا ہوں؟ یہ بھی بتا دوں کہ جب وہ بچی با شعور ہو جائے گی تو ان شاء اللہ میں اسے حقیقت بتا دوں گا اور شرعی اعتبار سے جہاں کہیں بھی حقیقی والد کے نام کی ضرورت ہو (مثلاً نکاح وغیرہ) وہاں انہیں کا نام لیا جائے گا. مقصد صرف قانونی پیچیدگیوں سے بچنا ہے اور اس کے والد بھی اس پر راضی ہیں۔ خیرا

Published on: Jul 17, 2019

جواب # 171664

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1087-882/B=11/1440



صحیح اور سچ لکھنا ہر جگہ ضروری ہے۔ جس باپ کی وہ بچی ہے پاسپورٹ میں دستاویزات میں نکاح پڑھانے میں ہر جگہ اصل باپ کا ولدیت میں لکھنا ضروری ہے، آپ کو اس کی ولدیت میں اپنا نام لکھوانا درست نہیں۔ آپ نے اس کی جو پرورش کی، اس کا آپ کو بہت بہت اجر اللہ کے یہاں ملے گا۔ آج آپ اس کا پاسپورٹ بنوانے میں دستاویزات بنوانے میں ولدیت میں اپنا نام لکھوائیں گے اور پھر بعد نکاح کے وقت نکاح نامہ اصل باپ کا نام لکھوائیں گے تو اس سے بعد میں بچی کے لئے بہت پریشانیاں کھڑی ہو سکتی ہیں۔ اس لئے ہر جگہ اس بچی کے حقیقی باپ کا نام ہی لکھوائیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات