Pakistan

سوال # 171027

ایک مسجد والوں نے بچوں کو نماز کا عادی بنانے کے لیے ایک سکیم سوچی ہے کہ آٹھ سے گیارہ سال تک کے بچے ہو نماز کے بعد دستخط کروا لیں پھر جو بچے ایک متعینہ مدت تک نمازیں پابندی سے پڑھتے رہیں گے ان کو مختلف قسم کے انعامات دیے جائیں گے جن میں سائکل کتابیں و دیگر اشیاء شامل ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے ایک مولوی صاحب کہنے لگے کہ یہ اجرت علی القاری کی قبیل سے ہے یعنی تراویح پر اجرت لینا کیا یہ کہنا درست ہے یا کیا حکم ہے؟

Published on: Jul 3, 2019

جواب # 171027

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 967-881/M=10/1440



بچوں کو نماز کی پابندی کرنے پر انعام دیا جا سکتا ہے لیکن یہ انعام مسجد کے فنڈ سے دینا درست نہیں، اور انعام دینے کے لئے باضابطہ اجتماعی کوئی اسکیم بنانے کی ضرورت نہیں، ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اولاد کو نماز کی ترغیب دیں ان کو نماز سکھائیں اور نماز کا پابند بنائیں اور بچوں کا ذہن ایسا بنائیں کہ وہ دنیوی انعام کے لالچ میں نہیں بلکہ اخروی انعام کے شوق میں نماز پڑھنے والے بنیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات