عبادات - احکام میت

India

سوال # 175344

محترم مفتی صاحب، کیا تدفین کے بعد میت کی قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرسکتے ہیں اور اس کا طریقہ کیا قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ۔

Published on: Dec 25, 2019

جواب # 175344

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:315-256/N=4/1441



فقہاء نے فرمایا: مستحب ہے کہ تدفین سے فارغ ہوکر قبر کے پاس ( کم از کم) اتنی دیر ٹھہرا جائے کہ ایک اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاسکے اور اس دوران میت کے لیے منکر نکیر کے سوالات کے جواب میں ثبات قدمی اور مغفرت کی دعا کی جائے اور قرآن پاک پڑھا جائے، جیسے: میت کے سرہانے سور بقرہ کی ابتدائی آیتیں اور پائینتی جانب سورہ بقرہ کی آخری آیتیں پڑھی جائیں۔ اور اس موقع پر جب دعا کی جائے تو اس میں ہاتھ اٹھاکر دعا کرسکتے ہیں؛ بلکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر قبلہ رو ہوکر اور ہاتھ اٹھاکر دعا فرمائی ہے؛ اس لیے اس موقع پر ہاتھ اٹھاکر قبلہ رو ہوکر دعا کرنا نہ صرف جائز؛ بلکہ مستحب ہے (احسن الفتاوی ۴: ۲۳۳، ۲۳۴، مطبوعہ: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی) ؛ البتہ دعا میں کوئی ایسا طریقہ نہ اختیار کیا جائے کہ کسی دیکھنے والے کو صاحب قبر سے دعا کرنے کا شبہ ہو، نیز اجتماعی طور پر جہری دعا بھی نہ کی جائے؛ بلکہ ہر شخص انفرادی طور پر سری دعا کرے۔



عن عثمانقال: کان النبي صلی اللہ علیہ وسلم إذا فرغ من دفن المیت وقف علیہ فقال: ”استغفروا لأخیکم ثم سلوا لہ بالتثبیت فإنہ الآن یسأل“، رواہ أبو داود (مشکاة المصابیح، کتاب الإیمان، باب إثبات عذاب القبر، الفصل الثاني، ص ۲۶، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، وعن عبد اللہ بن عمرقال: سمعت النبي صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ”إذا مات أحدکم فلا تحبسوہ وأسرعوا بہ إلی قبرہ ولیقرأ عند رأسہ فاتحة البقرة وعند رجلیہ بخاتمة البقرة“، رواہ البیھقي فی شعب الإیمان وقال: والصحیح أنہ موقوف (المصدر السابق، کتاب الجنائز، باب دفن المیت، الفصل الثالث، ص ۱۴۹، وانظر مرقاة المفاتیح أیضاً)، وعن عمرو بن العاصقال لابنہ وھو في سیاق الموت: إذا أنا مت فلا تصحبني نائحة ولا نار فإذا دفنتموني فشنوا علی التراب شناً ثم أقیموا حول قبري قدر ما ینحر جزور ویقسم لحمھا حتی أستأنس بکم وأعلم ماذا أراجع بہ رسل ربي؟ رواہ مسلم (المصدر السابق)، ویستحب ……بعد دفنہ لدعاء وقراء ة بقدر ما ینحر الجزور ویفرق لحمہ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ۳: ۱۴۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، وانظر رد المحتار أیضاً، وفي حدیث ابن مسعود:رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في قبر عبد اللہ ذی النجادین “ الحدیث، وفیہ: فلما فرغ من دفنہ استقبل القبلة رافعاً یدیہ ، أخرجہ أبو عوانة في صحیحہ (في، کتاب الدعوات، باب الدعاء مستقبل القبلة، ۱۱: ۱۷۳، ط:دار السلام الریاض)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات