عبادات - احکام میت

india

سوال # 173716

میرے ایک قریبی کی نماز جنازہ دو بار پڑھی گئی ، کیا شرعاً یہ بات درست ہے؟ اگر درست نہیں ہے تو اس کی کونسی نماز درست مانی جائے گی؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Nov 3, 2019

جواب # 173716

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:147-134/L=3/1441



اصلانمازِ جنازہ کا تکرار مشروع نہیں ہے اور اگر دوبار نماز پڑھی جائے پہلی نماز کافی ہوجائے گی دوسری نماز کا اعتبار نہ ہوگا ؛البتہ اگر ولی جس کو حقِ تقدم حاصل ہو اس کی صراحتاً یا دلالةً اجازت کے بغیر نماز پڑھی گئی ہو تو وہ دوبارہ نماز ادا کرسکتا ہے اور اس کے ساتھ وہ لوگ بھی شاملِ جماعت ہوسکتے ہیں جنھوں نے پہلی مرتبہ نماز ادا نہ کی ہو ،آپ کے قریبی شخص کی نمازِ جنازہ دوبارہ پڑھنے کی کیوں ضرورت ہیش آئی؟ جب تک اس کی صراحت نہ کی جائے اس وقت تک یہ لکھنا مشکل ہوگا کہ ان لوگوں کا عمل صحیح تھا یا غلط؟ اہلِ میت سے اس کی تحقیق کرکے سوال کیا جائے پھر ان شاء اللہ جواب دیا جائے گا۔



قال فی مراقی الفلاح: فإن صلی غیرہ أی غیر من لہ حق التقدم بلا إذن ولم یقتدہ أعادہا ہو إن شاء لعدم سقوطہ حقہ وإن تأدی الفرض بہا ولا یعید معہ أی مع من لہ حق التقدم من صلی مع غیرہ لأن التنفل بہا غیر مشروع کما لا یصلی أحد علیہا بعدہ وإن صلی وحدہ (مراقی الفلاح) وفی الطحطاوی: أما إذا أذن أو لم یأذن ولکن صلی خلفہ فلیس لہ أن یعید لأنہ سقط حقہ بالإذن أو بالصلاة مرة وہی لا تتکرر ولو صلی علیہ ولی وللمیت أولیاء آخرون بمنزلتہ لیس لہم أن یعیدوا لأن ولایة الذی صلی متکاملة․ (طحطاوی علی مراقی الفلاح:1/591، الناشر: دار الکتب العلمیة بیروت - لبنان) و فی البدائع: ولا یصلی علی میت إلا مرة واحدة لا جماعة ولا وحدانا عندنا، إلا أن یکون الذین صلوا علیہا أجانب بغیر أمر الأولیاء، ثم حضر الولی فحینئذ لہ أن یعیدہا․ (بدائع: ۳۱۱/۱)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات