عبادات - احکام میت

India

سوال # 173597

میت کو لاعلمی میں ناپاک پانی سے غسل دیکر دفن کر دیا گیا تو کیا قبر سے اس کو نکال کر دوبارہ غسل دیکر نماز پڑھی جائے؟

Published on: Nov 2, 2019

جواب # 173597

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 77-39T/SN=02/1441



صورت مسئولہ میں میت کو غسل کے لئے قبر سے نکالنا جائز نہیں ہے۔ اس سلسلے میں میت کے ورثہ کے لئے حکم یہ ہے کہ جب تک ظن غالب یہ ہو کہ لاش پھٹی نہ ہوگی قبر پر نماز جنازہ ادا کرلیں، لاش پھٹنے کی کوئی خاص مدت مقرر نہیں، جگہ، موسم اور میت کے دبلے و موٹے ہونے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے اور جب غالب گمان یہ ہو کہ لاش پھٹ چکی ہوگی تو ان دونوں صورتوں میں قبر پر جنازہ کی نماز نہیں پڑھی جائے گی۔



فی رد المحتار: وإن دفن وأہیل علیہ التراب بغیر صلاة أو بہا بلا غسل او ممن لا ولایة لہ صلی علی قبرہ استحسانا مالم یغلب علی الظن تفسخہ من غیر تقدیر ہو الأصح ۔



أو بہا بلا غسل ہذا روایة ابن سماعة ۔ والصحیح أنہ لایصلی علی قبرہ فی ہذہ الحالة لأنہا بلا غسل غیر مشروعة ، کذا فی غایة البیان، لکن فی السراج وغیرہ: قیل لا یصلی علی قبرہ ، وقال الکرخی: یصلی، وہو الاستحسان لأن الأولی لم یعتد بہا لترک الشرط مع الإمکان والآن زال الإمکان فسقطت فرضیة الغسل ، وہذا یقتضي ترجیح الإطلاق ، وہو الأولی نہر ۔ ۳/۱۲۵، ط: زکریا ۔



ولا یخرج منہ بعد إہالة التراب ۔



کما إذا دفن بلا غسل أو صلاة أو وضع علی غیر یمینہ أو إلی غیر القبلة فإنہ لاینبش علیہ بعد إہالة التراب کما مر۔ ۳/۱۴۵، ط: زکریا ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات