عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

Uttar Pradesh

سوال # 175359

امید کرتا ہوں کہ آپ تمام حضرات بخیر ہوں گے کیا فرماتے ہیں حضرات مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں۔
( ۱ ) ایک تبلیغی ساتھی کا یہ کہنا ہے اگر کوئی شخص مسجد حرام میں نماز پڑھتا ہے اس کو ایک لاکھ (۱۰۰۰۰۰ ) نمازوں کا ثواب ملتا ہے لیکن جو شخص گشت کرکے باجماعت نماز پڑھتا ہے دس لاکھ ( ۱۰۰۰۰۰۰ ) نمازوں کا ثواب ملتا ہے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ بات شرعاً کسی حد تک درست ہے ؟
( ۲ ) تبلیغی ساتھی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس وقت اھل تبلیغ مثلاً بعد نماز فجر فضائل اعمال کی تعلیم کرتے ہیں اس وقت اگر کوئی قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو وہ ایک غیر افضل عمل کو انجام دیتا ہے بایں وجہ کے فضائل اعمال کی تعلیم اجتماعی عمل ہے جو بہرصورت افضل ہے اور علماء کی تصریح کے بموجب ہمارا یہ خیال ہے کہ تلاوت قلام اللہ مطلقاً افضل ہے البتہ جن خصوصی مواقع کیلئے خاص اذکار وارد ہوئے وہاں وہی افضل ہوں گے جیسا کہ علامہ جزوی رحمتہ اللہ علیہ حصن حصین میں لکھتے ہیں افضل الذکر القرآن الافیما شرع بغیرہ قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔

Published on: Dec 25, 2019

جواب # 175359

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 333-284/D=04/1441



(۱) کسی عمل کی فضیلت اور ثواب کتنا ہے؟ اس کا علم اللہ تعالی کو ہے اس لئے کسی عمل میں ثواب کی مقدار اور فضیلت بیان کرنا صاحب شریعت کا کام ہے پس جس عمل کی فضیلت یا ثواب نص سے ثابت ہو وہ تو صحیح ہے مثلاً خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنا ایک رکعت ایک لاکھ رکعت کے برابر ہے یہ حدیث میں مذکور ہے اور گشت کرکے نماز پڑھنے سے دس لاکھ نمازوں کا ثواب ملتا ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے پس ایسی غیر ثابت بات نقل کرنے سے بھی احتراز کرنا چاہئے۔



(۲) اعمال صالحہ میں کونسا عمل افضل ہے اور کس کے لئے افضل ہے؟ اس کی تعیین شارع علیہ الصلاة والسلام کا حق ہے کوئی انسان اپنی عقل اور قیاس سے افضل و مفضول کی تعیین نہیں کر سکتا۔ حدیث میں تلاوت قرآن کو افضل الذکر کہا گیا ہے لہٰذا فضائل اعمال کی تعلیم کے بالمقابل تلاوت قرآن کو غیر افضل عمل قرار دیا غلط ہے۔ انفرادی عمل کرنے والا یکسوئی سے اپنے عمل میں مشغول رہے اور اجتماعی عمل والے اپنے عمل میں کوئی کسی کے لئے باعث حرج اور تشویش و خلل کا موجب نہ بنے۔ جس جگہ اجتماعی عمل ہو رہا ہو اور انفرادی عمل والا اپنے عمل میں خلل محسوس کرے تو یہ خود ہی ایک طرف ہو جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات