عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

Saudi Arabia

سوال # 175246

بندہ کا سوال یہ تھا کہ دعوت کا کیا مطلب ہے؟ بعض حضرات دعوت، تزکیہ، تعلیم، تذکیر، سب کو دعوت ہی کہتے ہیں۔ کیا ان الفاظ میں اس اعتبار سے کوئی فرق نہیں کہ کسی میں طلب والوں کے ایمان کو تازہ کیا جائے، تو کسی میں بے طلب لوگوں کو ایمان کی طرف بلایا جائے۔ کسی میں لوگوں کے دلوں کو گندگیوں و اخلاقِ رذیلہ سے پاک کیا جائے تو کسی میں لوگوں کو اللہ تعالٰی کے اوامر و نواہی پر عمل کرنا سکھایا جائے۔ اگر اِن میں واقعی کوئی فرق نہیں، تو پھر قرآن و سنت میں یہ مختلف تعبیرات کیوں اختیار کی گئی ہیں؟

Published on: Dec 24, 2019

جواب # 175246

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 323-260/D=04/1441



دعوت کے لفظی معنی بلانے کے ہیں، انبیاء علیہم السلام کا پہلا فرض منصبی لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا ہے، پھر تمام تعلیماتِ نبوت و رسالت اسی دعوت کی تشریحات ہیں، قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خالص صفت داعی الی اللہ ہونا ہے، وداعیاً إلی اللہ بإذنہوسراجاً منیراً ، تزکیے کے معنی ظاہری و باطنی نجاسات سے پاک کرنا، ظاہری نجاسات سے تو عام مسلمان واقف ہیں، باطنی نجاسات: کفر و شرک ، غیر اللہ پر اعتماد کلی، اور اعتقاد فاسد، نیز تکبر، حسد، بغض ، حب دنیا وغیرہ، اخلاق رذیلہ سے پاک کرکے، اخلاق فاضلہ پیدا کرنے کے لئے جو جدوجہد کی جاتی ہے اس کا نام تزکیہ ہے۔



بے عمل لوگوں کو دین پر عمل پیرا بنانے کے لئے، ترغیب و ترہیب کے ذریعے جو وعظ و نصیحت کی جاتی ہے، وہ تذکیر کہلاتی ہے۔



عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق سے متعلق احکام و فضائل کی باتیں لوگوں کو بتلانے اور سکھلانے کانام تعلیم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہٴ دعوت میں یہ سب باتیں شامل تھیں۔ تعلیم تذکیر تزکیہ سبھی چیزیں پائی جاتی تھیں۔ مفتی محمد شفیع رحمة اللہ علیہ، داعیاً إلی اللہ کی وضاحت میں لکھتے ہیں: داعیاً إلی اللہ سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کو اللہ تعالی کے وجود اور توحید و اطاعت کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ (معارف القرآن، جلد: ۷/۱۷۰)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات