عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 173355

میں ایک ضروری مسئلہ دریافت کرنا چاھتا ہوں۔میں نے کئی مرتبہ تبلیغی حضرات کو یہ کہتے ہوے سنا کہ "حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اس دنیا سے رائے کے دانے کے برابر بھی ایمان بچا کر لیجای?گا اللہ تعالی اسے اس دنیا سے دس گنا بڑی جنت عطا فرمائیں گے " ایک مرتبہ میں بھی جماعت میں تھا تو ہمارے ایک ساتھی نے بھی یہ حدیث بیان کردی۔جس ایک صاحب کہنے لگے کہ یہ حدیث نہیں ہے ۔ یہ تو تبلیغ والے ایک دوسرے کی سنا سنی بیان کرنے لگے ۔ اب برائے کرم مسئلہ حل فرما ئیں کہ کیا واقعی یہ حدیث نہیں ہے .؟ یا حدیث تو ہے پر "دس گنا" کی قید نہیں؟ یا یہ کسی صحابی وغیرہ کی تحقیق(قول) ہے .؟ یا واقعی حدیث ہے .؟اگر حدیث ہے تو برایکرم کتاب کا حوالہ دیں۔ اور ساتھ ہی راوی کا نام بھی بتا دیں ۔

Published on: Oct 27, 2019

جواب # 173355

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 32-12T/SN=02/1441



کافی تلاش کے باوجود بعینہاس مضمون کی حدیث کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہوگا، اللہ تعالی اس کو اس دنیا سے دس گنا بڑی جنت عطا فرمائیں گے، نہ مل سکی۔



البتہ مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص سب سے اخیر میں جنت میں داخل ہوگا، اس کو اللہ تعالی اس دنیا سے دس گنا بڑی جنت عطا فرمائیں گے۔



عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إني لأعلم أہل النار خروجا منہا، وآخر أہل الجنة دخولاً الجنة ․․․․․ وفیہ فیقول اللہ تعالی لہ: إذہب، فادخل الجنة، فإن لک مثل الدنیا وعشرة أمثالہا، أو إن لک عشرة أمثال الدنیا ۔ (صحیح مسلم ، کتاب الإیمان، باب آخر أہل النار خروجاً ، رقم الحدیث: ۱۸۶)



یہی روایت بخاری میں بھی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی سے الفاظ کے تھوڑے فرق کے ساتھ ذکر کی گئی ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب صفة الجنة والنار، رقم الحدیث: ۶۵۷۱)



بخاری شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ”جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کی وجہ سے اللہ تعالی اس کو قیامت کے دن جنت میں داخل فرمائیں گے۔ عن أنس رضی اللہ عنہ قال: سمعت النبي صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ”إذا کان یوم القیامة شفعت فقلت: یاربّ ، أدخل الجنة من کان في قلبہ خردلة ، فیدخلون ۔ (صحیح البخاری، کتاب التوحید ، باب کلام الرب عزوجلّ یوم القیامة مع الأنبیاء وغیرہم رقم الحدیث: ۷۵۰۹)



حاصل یہ ہے کہ جس حدیث میں دس گنا جنت کا ذکر ہے وہاں رائی کے دانے کا ذکر نہیں اور جہاں رائی کے دانے کا ذکر ہے وہاں دس گنا جنت کا ذکر نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات