عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 172291

میں اپنے ساتھیوں میں عقائد کی اصلاح کی فکر کرتا ہوں اور اکثر مواقع پر اسی کی ترغیب دیا کرتا ہوں۔ جس میں ایک بات میں یہ کہتا ہوں کہ ہم جو مسجد آئے ہیں یہ ہمیں اللہ نے نہیں لایا بلکہ اللہ پاک کی توفیق ہوئی اور ہم چل کر آئے، یہ کہنا کہ اللہ لاتے ہیں یہ غلط ہے. اور ویسے ہی جب کسی انجان علاقے میں ملاقات کے لیے ہم جاتے ہیں تو اس سے متعلق جو یوں کہا جاتا ہے کہ اللہ نے ہمیں بھیجا آپ کے پاس ورنہ ہمیں کیا خبر تھی ہماری آپکی ملاقات ہونی ہے، تو اس میں بھی میں اس کی نفی کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ یہ ہمیں اللہ نے نہیں بھیجا بلکہ اللہ کا نظام ہے اس نے مقدر میں لکھ دیا ہے کب کس وقت کس جگہ کیا ہوگا، پس ویسے ہی وہ امور عمل میں آتے ہیں، اس میں ہم پر کونسی اللہ کی طرف سے معاذ اللہ وحی یا الحام ہوتا ہے کہ فلاں کام کرنا ہے یا فلاں سے جاکر ملنا ہے.. تو کیا میرا ان باتوں پر نفی کرنا درست ہے؟ برائے کرم جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔

Published on: Aug 25, 2019

جواب # 172291

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1184-1049/D=12/1440



اللہ تعالی کا ارشاد ہے اللہ خالق کل شيء (اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے) نیز ارشاد ہے واللہ خلقکم وما تعملون (اور اللہ نے پیدا کیا تم کو اور اس کو جو تم کرتے ہو) اس سے معلوم ہوا کہ بندہ بظاہر جو بھی کرتا ہے اس فعل کو در اصل اللہ تعالی ہی وجود میں لاتے ہیں، بندے کی طرف سے صرف کسب (کوشش و عمل) ہوتا ہے۔ اور بندے کو اپنے افعال کا خالق ماننا معتزلہ کا مسلک ہے۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہیں کہ اللہ تعالی ہمیں مسجد میں لائے ہیں یا اللہ تعالی نے بھیجا ہے، تمام چیزیں اگرچہ تقدیر میں لکھی ہوئی ہیں اور اسی کے مطابق افعال وجود میں آتے ہیں، مگر بندے کی طرف ان کی نسبت اس کے کسب کے وجہ سے ہوتی ہے۔ افعال کو عدم سے وجود میں لانا اللہ ہی کا فعل ہے، اس لئے یہ نفی کرنا کہ ”اللہ تعالی ہمیں نہیں لائے“ غلط ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات