عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 172288

مجھے یہ جاننا ہے کہ ایک بات ہم لوگ اللہ کے راستے میں نکلتے وقت جب بھی کوئی جماعت نکلتی ہے تو یوں کہتے ہیں کہ امیر کی اطاعت کرنا اور اس کے ہر فیصلہ پر راضی رہنا اس لیے کہ امیر کے سر پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے، اور ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ جس نے امیر کی مانی اسنے اللہ کے رسول کی مانی اور جس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی مانی اسنے اللہ کی مانی۔ اس لیے امیر کی اطاعت ہر حال میں کی جائے۔ ان دو باتوں سے متعلق وضاحت فرمائیں کہ کیا یہ جملے شریعتِ مطہرہ کے دائرے میں مروجہ دعوت و تبلیغ کی محنت کے اعتبار سے درست ہیں؟ کیا ان باتوں کو ہم آئندہ بھی جاری رکھیں؟ یا اگر یہ جملے قابلِ اصلاح ہوں تو برائے کرم ہماری اصلاح فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ

Published on: Aug 25, 2019

جواب # 172288

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1182-981/B=12/1440



ایک امیر وہ ہوتا ہے جو امیر المومنین ہوتا ہے، یعنی اسلامی بادشاہ ہوتا ہے۔ امیر کی اطاعت کے بارے میں جو باتیں احادیث آپ نے پیش کی ہیں وہ سب امیر المومنین کے بارے میں ہے، کیونکہ وہ پوری مسلم کا دینی سربراہ ہوتا ہے، اس کی اطاعت جائز امور میں واجب ہوتی ہے۔



ان ہی احادیث کے پیش نظر علماء نے سفر کے قافلہ میں بھی ایک کو امیر بنا لینا بہتر لکھا ہے تاکہ قافلہ میں اتحاد و اتفاق اور سکون ، پیار و الفت قائم رہے اور ہر قسم کی بدنظمی سے قافلہ محفوظ رہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات