عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

Pakistan

سوال # 172105

ایک جماعت کے بھائی اکثر کہتے ہیں کہ اگر کوئی سارا دن قرآن پڑھے، ذکر کرے، روزہ رکھے جو عمل بھی کرے تو اس کا ذرہ برابر بھی ایمان نہیں بڑھے گا ۔ جبتک وہ اللہ کی بڑھائی نہ بیان کرے یا کسی کو دعوت نہ دے۔ کیا یہ درست ہے۔ شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب کی درخواست ہے۔

Published on: Jul 29, 2019

جواب # 172105

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:993-875/11/1440



کوئی بھی نیک عمل کیا جائے، اس سے ایمانی کیفیت بڑھتی ہے،قرآن کریم میں ہے: واذا تلیت علیہم آیاتہ ، زادتہم ایمانا (جب ایمان والوں کو اللہ تعالی کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، تو وہ آیتیں اُن کے ایمان کو اور زیادہ مضبوط کردیتی ہیں)لہذا یہ کہنا کہ اللہ کی بڑائی بیان کیے بغیر اور دعوت دیے بغیر ایمان نہیں بڑھتا؛ درست نہیں ہے، اللہ کی کبریائی بیان کرنا اورمخلوق کو اس کی طرف بلانا ایک مستحسن عمل ہے، لیکن اس عمل کا دوسرے اعمال سے تقابل کرتے ہوئے ایمان کے بڑھنے کو صرف ایک عمل میں منحصر سمجھنا ناواقفیت کی بات ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات