india

سوال # 177494

دین کے ان مسائل کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
۱ ۔کتنی مقدار ڈاڑھی رکہنا شریعت کی رو سے واجب ہے؟ اور کتنے مقدار مستحب ہے ۔مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔
۲.کوئی آدمی اگر کسی ایسے مالک کی مزدوری کرے جس کا اکثر حصہ یا تھوڑا حصہ حرام مال سے وابستہ ہے تو اس مالک سے مزدوری وصول کرنا شرعا کیا حکم ہے؟
دلائل سے روشناس فرمائیں۔

Published on: Mar 7, 2020

جواب # 177494

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:631-466/sn==7/1441



(1)کم از کم یکمشت ڈاڑھی رکھنا شرعا واجب ہے، اس سے زیادہ ہونے پر کٹوانا جائز ہے؛ بلکہ بعض حضرات نے اسے افضل قرار دیا ہے۔ (دیکھیں: احسن الفتاوی: 9/55، مسائل شتی، ط: دزکریا بکڈپو، دیوبند)۔ عن ابن عمر، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: احفوا الشوارب وأعفوا اللحی: ہذا حدیث صحیح (سنن الترمذی ت رقم: 2761) قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا طاعة لمخلوق فی معصیة الخالق (مصنف ابن أبی شیبة ، رقم: 33717)وأما الأخذ منہا وہی دون ذلک کما یفعلہ بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم یبحہ أحد إلخ (فتح القدیر للکمال ابن الہمام 2/ 348، ط: بیروت)



(2) اگر تھوڑا بہت مال حرام ہے تب تو مزدوری وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ لیکن اگر کسی مسلمان کی کل یا غالب آمدنی حرام ہو تو اس کے پاس مزدوری نہ کرنی چاہیے، اگر کرتا ہے تو اسے شروع ہی میں یہ کہہ دینا چاہیے کہ میری مزدوری حلال آمدنی سے دو یا پھر کسی سے قرض لے کر دو۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات