India

سوال # 174688

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کالا اور لال کپڑے کے بارے میں ،کیا یہ مرد کے لیے جائز ہے؟

Published on: Dec 3, 2019

جواب # 174688

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:313-260/L=4/1441



 کالا لباس پہننا مرد کے لئے جائز اور مباح ہے؛البتہ جب کسی جماعت فساق یا کفار کا شعار ہو جیسا کہ محرم میں روافض کا شعار ہے تو اس سے بچنا چاہیے۔ (مستفاد:فتاوی محمودیہ:۲۶۵/۱۹) اور خالص سرخ کپڑا استعمال کرنا بشرطیکہ وہ معصفر یا مزعفر نہ ہو مکروہِ تنزیہی ہے۔



عن عائشة، قالت: صبغت للنبی صلی اللہ علیہ وسلم بردة سوداء فلبسہا۔ (أبوداو?د شریف، باب فی السواد، النسخة الہندیة۵۹۳/۲، دار السلام رقم: ۴۰۷۴) وفی الحدیث جواز لبس السواد وہو متفق علیہ۔ (بذل المجہود، باب فی السواد، دار البشائر الإسلامیة۱۰۱/۱۲، تحت رقم الحدیث ۴۰۷۴، سہارنپور قدیم ۵۱/۵)واعلم أن فی الثوب الأحمر اختلافا وانتشارا فی کتب المتأخرین، ولو صادفنا تجرید القدوری لاقتصرنا علیہ. والحافظ ابن تیمیة رحمہ اللہ تعالی یأخذ بقول الحنفیة من ہذا الکتاب، فدل علی اعتبارہ عندہ. وحاصل ما لخصت فی تلک المسألة: أن اللون إن کان من الزعفران أو العصفر کرہ تحریما للرجال، وغیرہما إن کان أحمر قانیا کرہ تنزیہا وإلا لا، وإن کان مخططا بخطوط حمراء بلا کراہة. وقال بعضہم باستحبابہ. وجاز الکل للنساء.(فیض الباری شرح صحیح البخاری 2/ 134،باب الصلاة فی الثوب الأحمر)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات