Pakistan

سوال # 169671

ٹخنوں سے اوپر شلوار کا مسئلہ بعض علماء جن میں مفتی اکرم، مولانا اسحاق رح، مفتی حنیف بریلوی، مفتی عبدالروف فاروقی دیوبندی و دیگر صاحب شامل ہیں کہتے ہیں کہ تکبر کی نیت سے جو بندہ اپنی شلوار یا تہہ بند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکائے تو یہ حرام ہے اگر تکبر کی نیت نہیں ہے تو کوئی حرج نہیں گنانہیں بہتر ہے کہ وہ ٹخنے ننگے رکھے اور ایک مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ اگر ٹخنے ننگے نہ ہو تو نماز واجب الادا ہے نماز لوٹانی پرے گی اب اس مسلئہ میں تفصیل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Apr 30, 2019

جواب # 169671

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 722-666/D=08/1440



شلوار یا تہبند ٹخنوں سے نیچے رکھنے کو حدیث میں تکبر کی علامت قرار دیا گیا ہے اور بالعموم شلوار کا ٹخنوں سے نیچے لٹکانا تکبر ہی کی وجہ سے ہوتا ہے پس شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ کسی کو عذر ہو۔ حاصلہ أن الإسبال یستلزم جرّ الثوب ، وجرّ الثوب یستلزم الخیلاء ولو لم یقصد اللابس الخیلاء (فتح الباری: ۱۰/۲۶۴، ط: دارالمعرفة بیروت) لایجوز للرجل أن یجاوز بثوبہ کعبیہ، ویقول: لاأجرّہ خیلاء ؛ لأن الحدیث قد تناولہ لفظاً ولایجوز لمن تناولہ اللفظ حکماً أن یقول: لا أمتثلہ؛ لأن تلک العلة لیست في؛ فإنہا دعوی غیر مسلمة ، بل إطالتہ ذیلہ دالة علی تکبرہ ۔ (عارضة الأحوذي: ۷/۳۳۷، ط: دار الباز للطباعة والنشر) إیاک وجرّ الإزار فإنہا من المخیلة (شعب الإیمان للبیہقي: رقم الحدیث: ۵۷۳۰۔ اور شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنا مکروہِ تحریمی ہے خواہ نماز میں ہی ہو؛ البتہ اس کی وجہ سے نماز واجب الاعادة نہیں ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات