عبادات - زکاة و صدقات

india

سوال # 173709

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں مدرسے میں آنے والی زکاة کو کس طرح استعمال کریں اس کی صورت حال کیا ہوگی اور کس کس چیز (کھانا تعمیر تنخواہ طلبہ ) میں استعمال کیا جاسکتا ہے نیز زکاة کا مستحق ہر طالب علم ہے یا اساتذہ بھی برائے کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت کے ساتھ مدلل جواب عنایت فرمائیں

Published on: Oct 16, 2019

جواب # 173709

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 136-104/M=02/1441



مدرسے میں آنے والی زکاة کی رقم، طلبہ پر تملیکاً خرچ کرنا لازم ہے اس کی صورت یہ ہے کہ ماہانہ وظائف کی شکل میں طلبہ کو تقسیم کردی جائے یا زکاة کی رقم سے کھانا بنواکر کھانا تقسیم کرا دیا جائے یا کتابیں خرید کر طلبہ کو انعام میں دے کر مالک بنا دیا جائے، جو طالب علم مستحق زکاة نہیں ہے مثلاً سید ہے یا غنی ہے اس کے لئے زکاة لینا کسی بھی شکل میں جائز نہیں، اسی طرح زکاة کی رقم، اساتذہ کرام کی تنخواہوں میں دینا یا تعمیری کام میں لگانا درست نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات