عبادات - زکاة و صدقات

india

سوال # 171485

میرا سوال یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بہن کی شادی میں اس کو زکوة کی رقم دے سکتا ہے جیسے شادی میں ایک لاکھ روپے کی ضرورت ہی تھے اور میری زکوة نعت 30 ہزار روپے بنتی ہے ہے تو کیا میری آئندہ کی زکوة پہلے ہی دے سکتا ہوں تاکہ شادی میں پریشانی نہیں آئے بہن صاحب نصاب نہیں ہے اور بالغ ہے لیکن ماں باپ صاحب نصاب ہیں مگر مالی حالت ٹھیک نہیں ہے محنت مزدوری کرتے ہیں۔

Published on: Jun 27, 2019

جواب # 171485

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1015-860/D=10/1440



(۱) آپ اگر صاحب نصاب ہیں تو آئندہ کی زکاة پیشگی بھی نکال سکتے ہیں پھر آئندہ سال پورا ہونے پر حساب کرلیں گے جس قدر زکاة واجب ہوگی اگر کم ادا کیا ہوگا تو بقیہ ادا کرلیں گے۔



(۲) بہن صاحب نصاب نہیں ہے تو اسے زکاة کی رقم دی جاسکتی ہے لیکن ایک مرتبہ میں اتنی زکاة دینا کہ وہ خود صاحب نصاب بن جائے مکروہ ہے اور اگر ایک مرتبہ اتنی زکاة دی کہ وہ صاحب نصاب بن گئی تو دوبارہ اسے مزید زکاة دینا جائز نہ ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات