عبادات - زکاة و صدقات

pakistan

سوال # 170883

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ ایک آدمی نے تکافل پلان لیا فرض کریں سالانہ پچاس ہزار روپے جمع کراتا ہے ۔تو اس جمع شدہ رقم پر زکات کا کیا حکم ہے۔؟بینوا توجروا۔

Published on: May 25, 2019

جواب # 170883

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 921-816/M=09/1440



اس شخص کو چاہئے تھا تکافل پلان کے بارے میں زکاة کا حکم معلوم کرنے سے پہلے اس کی صورت واضح کرکے پہلے اس کی شرعی حیثیت معلوم کرتا کہ تکافل پلان لینا شرعاً کیسا ہے؟ بہرحال جو سوال پوچھا گیا ہے اس کے متعلق عرض ہے کہ اگر اس سے مراد انشورنس (بیمہ) پالیسی لینا ہے تو اس میں ہرسال جمع شدہ اصل رقم پر حسب شرائط وجوب زکاة ، زکاة کا حکم ہوگا، سود پر زکاة نہیں، اور سودی اسکیم اختیار کرنا ناجائز اور حرام ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات