عبادات - زکاة و صدقات

Gujrat

سوال # 169796

ایک شخص جوا کھیلنے کی وجہ سے سات لاکھ کا مقروض ہو گیا ہے ، اب اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو کیا ایسے شخص کو زکوة کی رقم سے قرضہ سے بری کر سکتے ہیں؟

Published on: Apr 7, 2019

جواب # 169796

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 785-695/M=07/1440



جواری مقروض اگر مستحق زکات ہے تو اس کو زکات دے کر مالک بنا دینے سے زکات ادا ہو جائے گی لیکن جو شخص جوا کھیلنے کا عادی ہو اور اندیشہ ہو کہ وہ زکات کی رقم بھی جوا کھیلنے میں خرچ کردے گا ایسے شخص کو زکات دے کر اس کی مدد کرنا درست نہیں، یہ تعاون علی الاثم ہوگا، ہاں اگر وہ شخص جوا کھیلنے سے سچی پکی توبہ کرچکا ہے اور آئندہ شریعت و سنت کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہے اور اپنے قرض کو ادا کرکے بری الذمہ ہونا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں اسے زکات دینا درست ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات