عبادات - زکاة و صدقات

INDIA

سوال # 169000

میں زکات کے مستحقین کے بارے میں بہت پریشان ہوں۔ میری پھوپھی کے تین بچے ہیں، ان کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ میرے پھوپھا کی پہلے گفٹ کارنر (gift corner) کی دوکان تھی پھر جوتے کی دوکان کھولی اور اب ڈِش ریپئرنگ (dish repairing) کا کام کرتے ہیں۔ ان سب کاموں کو کرنے کے ساتھ ساتھ وہ آرکسٹرا (orchestra) میں سنگر اور اَینکر کا بھی کام کرتے ہیں۔ میری پھوپھی بھی کچھ لڑکیوں کو سلائی کڑھائی سے کچھ پیسے کما لیتی ہیں۔ میری پھوپھی کی سب لوگ مدد کرتے ہیں جیسے کہ میری پھوپھی کے بھائی، بہن اور بھی رشتہ دار ۔ یہ مدد زکات کی شکل میں بھی ہوتی ہے اور ویسے بھی (نفلی) ۔ میں نے بھی زکات کی رقم اپنی پھوپھی کو بطور عیدی کہہ کے دی ہے۔ میں اب تھوڑا تذبذب میں ہوں کہ میں اپنی پھوپھی کو زکات کی رقم دوں یا نہ دوں؟ کیونکہ میں نے سنا ہے زکات اس کو نہیں دینی چاہئے جس کے پاس سب کچھ کھانے پینے کے بعد اتنا مال بچ جائے جس سے ۵۹۵/ گرام چاندی آجائے۔
براہ کرم، وضاحت فرمائیں۔

Published on: Mar 12, 2019

جواب # 169000

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:561-501/sd=7/1440



 اگر آپ کی پھوپی صاحب نصاب نہیں ہیں، یعنی اُن کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی (تقریباً ۶۱۲/ گرام ۳۶۰/ ملی گرام) یا ساڑھے سات تولہ سونا (تقریباً ۸۷/ گرام ۴۸۰/ ملی گرام) یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر نقد رقم یا کچھ نقد رقم کے ساتھ اتنا سونا یا اتنی چاندی نہیں ہے جس کی قیمت چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے ، اسی طرح ضرورت اصلیہ سے زائد اتنا سامان بھی نہیں ہے ، جس کی مجموعی قیمت چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے ، تو ایسی صورت میں آپ اپنی پھوپی کو زکات کی رقم دے سکتے ہیں اور زکات کی ادائیگی کے لیے زکات کی رقم کی وضاحت ضروری نہیں ہے ، بتائے بغیر آپ زکات کی رقم دے سکتے ہیں ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات