عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 167838

میری بیوی کو زیور کی زکاة ادا کرنا مشکل تھا، اس لیے زیور بھیج زمین خرید لی، چارسال پہلے، تاکہ زمین کی قیمت بھی بڑھے گی اور جب ضرورت ہو بیچ دیں گے اور زکاة بھی ادا نہیں کرنی ہوگی، مگر جتنی امید تھی اتنی قیمت نہیں بڑھی، اس لیے ہم اس جگہ کو پانچ لاکھ میں بیچنے کا ارادہ دو سال پہلے کرلیا تھا، مگر کوئی ابھی تک خریدا نہیں، کسی نے کہا کہ جب سے جگہ بیچنے کا ارادہ کیا تو تب سے زکاة ادا کرنا ضروری ہے؟
براہ کرم، بتائیں کہ ہمیں کب سے زکاة دا کرنا ضروری ہے؟

Published on: Jan 30, 2019

جواب # 167838

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:437-384/sn=5/1440



اگر کوئی شخص کوئی چیز (خواہ زمین ہو یا کوئی او رچیز )اس نیت سے خریدے کہ آئندہ جب قیمت بڑھے گی بیچ دے گا تو یہ شرعا مال تجارت شمار ہوتا ہے ، اس کی ہر سال مارکیٹ ویلو کے حساب سے زکات ادا کرنا ضروری ہوتا ہے ، آپ کی بیوی نے زیور فروخت کر کے جب زمین خریدی تھی اگر اسی وقت سے فروخت کرنے کی نیت تھی تو جب سے یہ زمین آپ کی بیوی نے خریدی ہے اسی وقت سے اس کی زکات شرعا واجب ہے، جو مسئلہ آپ کے ذہن میں ہے کہ زمین پر مطلقا زکات واجب نہیں ہوتی، یہ صحیح نہیں ہے ؛ہاں اگر زمین کی خریداری کے وقت فروخت کرنے کی نیت نہ ہو؛بلکہ مکان وغیرہ بنانے کی نیت ہو تو پھر یہ زمین مال تجارت نہ بنے گی اور نہ اس پر زکات واجب ہوگی، اگرچہ بعد میں بیچنے کی نیت ہوجائے ، بہر حال صورت مسؤولہ میں اگر فی الواقع خریدتے وقت ہی بیچنے کی نیت تھی تو آپ کی بیوی کو خریداری کے وقت سے (صرف دوسال پہلے سے نہیں) زکات ادا کرنا ہوگا، مارکیٹ ویلو کے حساب سے زکات ادا کردی جائے ۔



(وما اشتراہ لہا) أی للتجارة (کان لہا) لمقارنة النیة لعقد التجارة (لا ما ورثہ ونواہ لہا) لعدم العقد إلا إذا تصرف فیہ أی ناویا فتجب الزکاة لاقتران النیة بالعمل.... والأصل أن ما عدا الحجرین والسوائم إنما یزکی بنیة التجارة بشرط عدم المانع المؤدی إلی الثنی وشرط مقارنتہا لعقد التجارة.... ولونوی التجارة بعد العقد أواشتری شیئا للقنیة ناویا أنہ إن وجد ربحا باعہ لا زکاة علیہ (الدر المختار مع رد المحتار 3/193،ط: زکریا، دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات