عبادات - زکاة و صدقات

Saudi Arabia

سوال # 167727

اسلام علیکم، مفتی صاحب میرا ایک مسئلہ ہے برائے مہربانی جلد جواب عنائیت فرمائیگا
چندسال پہلے میں نے ایک رشتہ دار کو قرض دیا تھا جو وہ ابھی تک ادا نہیں کرسکا نا ہی اس کی امید ہے اور وہ شخص دور رہتا ہے اور سامنے آنے کی امید بھی نہیں ۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ میں اس سے کہوں کہ وہ رقم کا بندوبست کرکے وہاں پر موجود کسی ز
آدمی کو میرا وکیل بنا کر دے اور میں زکوة کی نیت کرکے اس آدمی سے کہوں کہ وہ رقم اس کو دے دے
کیا اس طرح زکوة ادا کی جاسکتی ہے

Published on: Jan 7, 2019

جواب # 167727

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:457-388/L=4/1440



جی ہاں! اگر یہ شخص مستحق زکات ہے تو اس طور پر زکات ادا ہوجائے گی اور اگر اس کے پاس پیسے کا انتظام کرنا مشکل ہو تو آپ یہ ترکیب بھی کرسکتے ہیں کہ زکاة کی رقم آپ اس کو دیدیں اور پھر قرض میں وصول کرلیں۔



وحیلة الجواز أن یعطي مدیونہ الفقیر زکاتہ ثم یأخذہا عن دینہ، ولو امتنع المدیون مد یدہ وأخذہا لکونہ ظفر بجنس حقہ․ (الدر المختار: ۳/۱۹۰، ط: زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات