عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 167628

معلوم ہو کہ میں ایک بہت معمولی تاجر ہوں، اور الحمد للہ جب میں مال خریدتا ہوں تو کل لاگت پر ایک طے شدہ رقم نفلی صدقہ نکالتا ہوں، جو دیگر موقع پر خرچ کرتا ہوں، معلوم ہو کہ میرے کچھ قرضدار ہیں جس میں سے کچھ ادا کرنے کی استعداد رکھنے کے باوجود اور کچھ مجبوری کی وجہ سے نہیں دے رہے ہیں،دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہم اس رقم کا استعمال اپنے قرضداروں کا قرض ادا کرنے کے لیے کر سکتے ہیں؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ اس رقم کا استعمال کسی موقع پر عوام کو راحت پہنچا نے (جیسے ٹھنڈک میں آگ) یا قبرستان کے دیکھ ریکھ کیلئے کیا جا سکتا ہے ؟یا اس رقم کو خرچ کرنے کے متعلق مشورہ دیں۔

Published on: Jan 23, 2019

جواب # 167628

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:401-343/sn=5/1440



(۱،۲) جی ہاں! نفلی صدقہ جو آپ مال خریدتے وقت نکالتے ہیں اس کا استعمال اپنے قرض داروں کا قرض ادا کرنے کے لئے کر سکتے ہیں، آپ انھیں رقم دیدیں اس کے بعد اپنے قرض کی بابت وصول کرلیں، اس طرح کے صدقے کی رقم آپ عوام کی راحت رسانی(مثلا سردیوں میں ان کے لئے الاؤ وغیرہ کا نظم کرنے میں)اورقبرستان کی حفاظت وغیرہ میں بھی استعمال کرسکتے ہیں۔(دیکھیں: عالم گیری(1/189،زکریا)تاتار خانیہ(3/214،ط: زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات