عبادات - زکاة و صدقات

INDIA

سوال # 167288

کیا فرماتے ہیں علماء اکرام میں اپنے والدین کے لتے براے یصالے ثواب ہر ماہ مسجد میں کچھ روپے دیتا ہوں -مسجد والے روپیون کو امام صحاب کی ماہانہ تنخواہ میں استمال کرتے ہیں یا مسجد کے تعمیری،بجلی بل یا اور کوئی کام میں لگاتے ہیں۔ براے مہربانی بتایے کہ والدین کے لتے براے یصالے ثواب دینا زیادہ مناسب ہے یا ان کی زندگی میں جونمازیں قضا ہوئی ہونگی ان قضا نمازوں کا فدیہ دینا زیادہ بہتر ہے ؟ فدیہ ایک فرض نماز کیلے کتنا دینا ہوگا ؟ مقدار بتائیں؟ کیا اناج کی بجاے رقم دے سکتے ہیں؟ برائے کرم جواب مرحمت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔

Published on: Dec 31, 2018

جواب # 167288

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 390-371/L=04/1440



(۱) ایصال ثواب کے لئے دی جانے والی رقم کی حیثیت صدقہ نافلہ کی ہے اور صدقات نافلہ کا مسجد کے مذکورہ بالا مصارف میں استعمال کرنا درست ہے۔ قال فی الوہبانیة:       ویدخل فی وقف المصالح قیم  إمام خطیب والموٴذن یعبر ۔



(۲) ایصال ثواب سے زیادہ بہتر قضاء نمازوں کا فدیہ دینا ہے ، اگر مرحوم نے اس کی وصیت کی ہو تب تو ترکہ کے ایک ثلث سے فدیہ دینا ضروری ہوگا، اور اگر مرحوم نے وصیت نہ کی ہو اور کوئی وارث اپنی طرف سے تبرعاً ادا کردے تو یہ بھی کافی ہے اور امید ہے کہ مرحوم کا ذمہ بری ہو جائے، اور ایک نماز کے فدیہ کی مقدار نصف صاع (ایک کلو چھ سو تینتیس ۶۳۳ء۱/ گرام ) گندم یا اس کی قیمت ہے، نمازوں کے فدیہ میں صرف فرض اور واجب (وتر کی نماز) کا اعتبار ہے اس لحاظ سے ایک دن کی چھ نمازیں ہوئیں اسی اعتبار سے فدیہ ادا کردیا جائے اور اگر نمازوں کی تعداد میں شک ہو تو اکثر کا اعتبار کرتے ہوئے فدیہ ادا کیا جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات