عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 167140

ہم یہاں یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس نصاب کی رقم مارچ کے مہینے میں ایک سال پورا ہورہاہے اور اس کے پاس اس وقت پیسہ نہیں ہے اور وہ حساب کرلیا ہے کہ مجھ کو کتنا پیسہ دینا ہے اور وہ بعد میں دینا چاہتاہے تو کیا بعد میں دے سکتاہے؟ اور بعد میں وہ کتنی تاخیر کرسکتاہے؟دوسری بات یہ ہے کہ اگر مان لیا مارچ سے وہ زکاة کے نام پر پیسہ دے رہاہے اور اگلے مارچ تک اس نے مان لیا 5000روپئے تک دیدیا اور اس نے حساب لگایا تو اس کے ایک سال کی زکاة کی رقم 6000ہوئی اور اس نے 1000اور دیدیئے اس طرح 6000اس نے دیدیئے ، 5000پہلے اور 1000بعد میں تو کیا اس طرح کرنا صحیح ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Dec 24, 2018

جواب # 167140

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 259-247/D=04/1440



اگر سال پورا ہونے پر زکات کا حساب کرلے اور ادائیگی میں تاخیر ہو جائے تو یہ بھی جائز ہے ادائیگی جلد سے جلد کرنے کی کوشش کرے تاکہ ذمہ فارغ ہو جائے اور بلاوجہ تاخیر نہ کرے۔



اگر گذشتہ سال کی کچھ زکات واجب الاداء رہ گئی تو اسے موجودہ سا ل میں بھی ادا کر سکتا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات