عبادات - زکاة و صدقات

India

سوال # 162057

کیا بالغ طالب علم یانا بالغ طالب علم کو زکات کی رقم دے سکتے ہیں اگر ان کے والدین کے پاس باون تولا چاندی ہے ، 10 گرام سونا ہے اور 50000روپیہ نقد ہے اور ماہانہ آمدنی6000روپیہ ہے ، گھر کاخرچہ نہین چلتا ہے ، کیا ایسے والدین کے طالب علم کوزکات کی رقم دے سکتے ہیں؟

Published on: Jun 11, 2018

جواب # 162057

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1188-984/sd=9/1439



جو طالب علم بالغ ہو اور محتاج مستحق زکات ہو، تو اس کو زکات دی جاسکتی ہے، خواہ اس کے والد مستحق زکات نہ ہوں؛ لیکن نابالغ طالب علم کے والد اگر مستحق زکات نہیں ہیں، تو نابالغ طالب علم کو زکات دینا جائز نہیں ہے۔ ولا یجوز دفعہا إلی ولد الغني الصغیر کذا في التبیین (الفتاوی الہندیة: ۱/ ۱۸۹، دار إحیاء التراث العربي بیروت) (و) لا إلی (طفلہ) بخلاف ولدہ الکبیر وأبیہ وامرأتہ الفقراء وطفل الغنیة فیجوز لانتفاء المانع․ (قولہ: ولا إلی طفلہ) أي الغني فیصرف إلی البالغ ولو ذکرا صحیحا قہستانی، فأفاد أن المراد بالطفل غیر الباغ ذکرا کان أو أنثی في عیال أبیہ أو لا لا علی الأصح لما عندہ أنہ یعد غنیًا بغناہ نہر (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/ ۳۵۰، ط: دار الفکر بیروت)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات