عبادات - زکاة و صدقات

Pakistan

سوال # 152474

میری تین زمینیں ہیں اور دو مکان ہیں جن میں سے ایک میں رہائش پزیر ہوں اور دوسرا کرایہ پر دے رکھا ہے ۔ جس مکان میں رہائش پزیر ہوں یہ وراثت میں میرے والد نے مجھے دیا ہے ساتھ ہی اس مکان میں میرے دیگر بھائی اور بہنیں بھی حصے دار ہیں لیکن صرف اس لئے مکان کو بیچا نہیں جا رہا کیونکہ والدہ کی خواہش ہے کہ وہ اسی مکان میں رہیں تادم حیات۔ جس پر تمام اولاد راضی ہے کہ والدہ کی زندگی میں مکان کو نہیں بیچا جائے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ زکوة کس کس مکان اور زمین پر ادا کی جائے گی جب کہ 1- ایک زمین پر میری یہ نیت ہے کہ بعد از وفات میری اولاد اسے مسجد کیلئے وقف کردیں۔
(۲) باقی دو زمینیں اور دونوں مکان بیچ کر اپنا ایک گھر بنانے کا ارادہ ہے ۔

Published on: Jul 17, 2017

جواب # 152474

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 934-758/D=10/1438



زکاة اس زمین پر واجب ہوتی ہے جس میں خریدتے وقت ہی تجارت کی نیت کرلی گئی ہو، سوال میں مذکورہ زمینیں اور مکان اس نوعیت کی نہیں ہیں، لہٰذا ان میں سے کسی میں زکاة واجب نہیں ہوگی۔ ولا في ثیاب البدن وأثاث المنزل ودور السکنی ونحوہا أي کثیاب البدن الغیر المحتاج إلیہا وکالحوانیت والعقارات․ (رد المحتار: ۳/۱۸۲)



(۲) باقی دو زمینیں جنھیں آپ بیچنے کا ارادہ رکھتے ہیں اگر آپ نے انھیں بچنے کے ارادے سے خریدا ہے تو ان میں زکاة واجب ہوگی، اور اگر آپ نے انھیں بیجنے کے ارادے سے نہیں خریدا، بلکہ بعد میں بیچنے کا ارادہ ہوگیا تو اس میں زکاة واجب نہیں ہوگی، اسی طرح اگر یہ زمینیں آپ کو وراثت وغیرہ میں ملی ہیں تو اس صورت میں بھی زکاة واجب نہیں ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات