عبادات - زکاة و صدقات

Netherlands

سوال # 151312

ایک سید عورت جس کا خاوند خرچہ نہیں دیتا اور اس کے چار بچے ہیں اور ایک ہونے والا ہے لیکن اس نے کچھ عرصہ پہلے بینک سے قرض لیا تھا جس پر سود بھی ہے کیا اس کے قرض کی ادائیگی کے لیے زکات کی رقم جمع کی جاسکتی ہے؟ یا اس کو زکات دی جاسکتی ہے؟ فیملی میں کوئی بھی مدد نہیں کررہا ہے۔ اور اگر خاوند کو معلوم ہو گیا وہ طلاق دے سکتا ہے، وہ پہلے دو طلاق دے چکا ہے اور اب بھی اس نے یہی کہا کہ اگر تمہارا اپنے میکے میں آنا جانا ہوا تو تم کو طلاق طلاق طلاق۔
آپ دعاوٴں میں یاد رکھیں اور زکات اور طلاق دونوں کے مسئلہ کا جواب میرے ای میل پر دیں، اس کو ویب سائٹ پر شائع نہ کریں۔

Published on: May 18, 2017

جواب # 151312

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 991-880/H=8/1438



خاندان سادات میں سے ہونے کی وجہ سے اس عورت کو زکاة دینا جائز نہیں، آپ حضرات علاوہ زکاة کے امداد سے تعاون کرتے رہیں، ان شاء اللہ اجر عظیم کے آپ سبھی حضرات مستحق ہوں گے، اگر اس (شوہر) نے طلاق دیدی یا بیوی میکہ میں چلی گئی تو شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق واقع ہوجائے گی اور چونکہ شوہر دو طلاق دے چکا ہے اس لیے آئندہ ایک طلاق واقع ہوجانے پر بیوی حرام ہوجائے گی، اللہ پاک سب کی پریشانیوں کو دور فرمائے اور مکارہ سے محفوظ رکھے۔ آمین



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات