• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 149884

    عنوان: گذشتہ سالوں کی زکاة ادا کرنے کا طریقہ ؟

    سوال: زید اپنے گزشتہ سالوں کی زکواة نکالنا چاہتا ہے اور اس کے پاس صرف سونا تھااب وہ زکواة کا حساب سونے کے گزشتہ مطلوبہ سال کے فی تولہ ریٹ پر کرے گا یا موجودہ ریٹ پر؟ مثال کے طور پر 1992 میں فی تولہ سونا کی قیمت 10000 تھی اور آج 50000 ہے ۔ اب 1992 کی زکوة 10000 کے حساب سے ہو گی یا 50000 کے حساب سے ؟ نیز یہ بھی وضاحت کر دیں کہ سونے کے ساتھ مال بھی ہو تو پھر حساب کس ریٹ پر ہو گا؟

    جواب نمبر: 149884

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 835-835/M=7/1438

    صورت مسئولہ میں اگر زید ۱۹۹۲سے صاحب نصاب ہے اور اس کے پاس صرف سونا ہے اور اس نے اب تک زکاة نہیں نکالی ہے تو گذشتہ سالوں کی زکاة ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ۱۹۹۲میں جتنا سونا تھا اس کا چالیسواں حصہ الگ کیا جائے پھر ۱۹۹۳میں باقی ماندہ کا چالیسواں حصہ نکالا جائے، اس طرح ہرسال کا حساب لگایا جائے، تمام سالوں کی زکاة کا مجموعہ جتنی مقدار میں سونا ہے بعینہ اسے نکال دی جائے یا اس کی موجودہ قیمت کے اعتبار سے زکاة ادا کردی جائے سونے کے ساتھ تجارتی مال بھی ہو تو اسے بھی ضم کرلیا جائے اور قیمت فروخت کا اعتبار کرکے حساب لگالیا جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند